کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 104
’’یقینا اللہ تعالیٰ نے بہت سے میدانوں میں تمہیں فتح دی اور حنین کی لڑائی والے دن بھی جب کہ تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہوگیا تھا، لیکن اس نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا، بلکہ زمین باوجود اپنی کشادگی کے تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر مڑ گئے۔‘‘ پھر ایسے وقت میں جب کہ مسلمان ہزیمت کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی اور اپنے محبوب بندوں کی مدد فرمائی۔ یہ تائید اس وقت ملی جب کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوبارہ لوٹ کر گئے، اور آپ کے پاس جمع ہوئے، پھر اللہ نے اپنی فوج پر اپنی رحمت اور مدد نازل کی: ثُمَّ أَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (التوبۃ:۲۶) ’’پھر اللہ نے اپنی طرف سے تسکین اپنے نبی پر اور مومنوں پر اتاری اور اپنے وہ لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے، اور کافروں کو پوری سزا دی، اوران کفار کا یہی بدلہ تھا۔‘‘ معرکہ حنین کے بعد مسلمان مدینہ لوٹے، جب وہ ’’جِعِرَّانہ‘‘ سے گزر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں سے (مالِ غنیمت کی) چاندی پکڑتے اور لوگوں میں تقسیم کرتے، اسی دوران ایک آدمی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا: اے محمد! انصاف سے کام لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری بربادی ہو، اگر میں انصاف نہ کروں گا تو کون انصاف کرے گا؟ اگر میں نے عدل سے کام نہ لیا تو میں خسارے میں ہوا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے، اس منافق کو قتل کردوں؟ آپ نے فرمایا: (( مَعَاذَ اللّٰہ أَنْ یَّتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّیْ أَقْتُلُ أَصْحَابِیْ ، إِنَّ ہٰذَا وَأَصْحَابُہٗ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنْہُ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) ’’اللہ کی پناہ، خوف ہے کہ لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں، بے شک یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے ایسے ہی خارج ہوں گے جیسے کہ تیر کمان سے۔‘‘ اس واقعہ سے سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے مؤقف کی عظمت ومنقبت جلوہ گر ہے، بایں طور کہ جب آپ کے سامنے شرعی محرمات کی تحقیر وبے حرمتی کی گئی تو آپ قطعاً برداشت نہ کرسکے، اُس خارجی نے مقام نبوت ورسالت پر جوں ہی حملہ کیا آپ فوراً یہ کہتے ہوئے سامنے آئے: ’’اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی