کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 96
کاٹ دے یا اپنی زمین کی طرف موڑ لے تاکہ پڑوسی کی زمین کی جگہ یا فضا خالی اور صاف رہے۔اگر شاخ کا مالک ایسا کرنے سے انکار کردے تو مالک زمین خود ہی اسے ختم کرسکتا ہے کیونکہ وہ حملہ آور سے مشابہ ہے جسے کم سےکم نقصان پہنچانے والے طریقے سے ہٹانا اس کا حق ہے،البتہ اگر دونوں ہی شاخ کو اسی حالت میں قائم رکھنے پر صلح کرلیں تو جائز ہے ،خواہ یہ صلح صحیح قول کے مطابق بامعاوضہ ہو یا شاخ کاپھل باہم تقسیم کرنے پر ہو،دونوں طرح درست ہے۔ 5۔ اگر پڑوسی کی زمین میں درخت کی جڑ چلی گئی تو اس کا حکم بھی وہی ہے جو شاخ والا تھا جس کا بیان اوپرگزرچکا ہے۔ 6۔ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی ملکیت کی زمین یا مکان وغیرہ میں ایسی تبدیلی کرے جو اس کے پڑوسی کے لیے تکلیف یا نقصان کا باعث ہو،مثلاً:حمام بنانا یا تنور لگانا یاقہوہ خانہ بنانا یا کارخانہ وفیکٹری لگانا،جس کی حرکت یا آواز باعث تکلیف ہو،یاروشن دان یا کھڑکی کھولنا جس کے ذریعے سے پڑوسی کے گھر نظر پڑسکتی ہو وغیرہ۔ 7۔ کسی کے گھر کی وہ دیوار جو اس کے اور اس کے پڑوسی کے درمیان مشترک ہے ،اس میں پڑوسی کی اجازت کے بغیر کھڑکی کھولنا یا بڑی میخ ٹھونکنا ناجائز ہے۔اسی طرح مشترک دیوار پر یا پڑوسی کی ملکیتی دیوار پر بلاضرورت لکڑی رکھنا یاکوئی اور بھاری بھرکم شےرکھنا جائز نہیں۔البتہ اگر چھت ڈالنے کی خاطر شہتیر وغیرہ رکھنا ہو جس کا وزن دیوار اٹھاسکے تو اس میں پڑوسی کو رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لاَ يَمْنَعْ جارٌ جارَهُ أَنْ يغْرِزَ خَشَبَةً في جِدارِهِ" "کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پرلکڑی رکھنے سے نہ روکے۔" اس حدیث کو بیان کرکے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے:"تعجب ہے کہ میں تمھیں دیکھ رہا ہوں کہ تم(اس حکم کو ماننے سے) گریز کررہے ہو،اللہ کی قسم! میں ضرور اس کو تمہارے کندھوں کے درمیان ماروں گا۔" اس روایت سے ثابت ہوا کہ کسی کے لائق نہیں کہ وہ ا پنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے منع کرے۔اگر کوئی رکاوٹ بنے تو حاکم اس پر زبردستی بھی کرسکتا ہے کیونکہ پڑوسی کو یہ حق شرعاً حاصل ہے۔ راستوں سے متعلق اہم شرعی احکام یہ ہیں: