کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 95
ہے کیونکہ اس میں مال کی مقدار متعین نہیں ہوتی،لہذا اس کے بدلے معاوضہ واقع نہیں ہوتا۔ حدود شرعیہ کے نفاذ میں مصالحت درست نہیں کیونکہ ان کی مشروعیت میں یہ حکمت ہے کہ دوسرے لوگ ان جرائم سے باز رہیں،نیز اس میں اللہ تعالیٰ اور معاشرے کاحق ہے جب کہ صلح اسے ختم کردیتی ہے،معاشرے کو خیر وفلاح کے فوائد سے محروم کردیتی ہے اور فتنہ وفساد برپا کرنے والے اور ناکارہ لوگوں کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب بنتی ہے،لہذا حدود شرعیہ میں مصالحت جائز نہیں ہے۔ پڑوس اور راستوں کے احکام فقہائے کرام نے کتب فقہ میں پڑوسیوں اور راستوں کے احکام تفصیل سے بیان کیے ہیں کیونکہ اس موضوع کی بہت اہمیت اور ضرورت ہے۔ عام طور پر پڑوسیوں کے درمیان مسائل اور الجھنیں پیدا ہوجاتی ہیں جن کا حل اور علاج نہایت ضروری ہے تاکہ اختلافات کے نتیجے میں عداوت ونزاع تک نوبت نہ پہنچنے پائے۔اس کے حل کے لیے جو متعدد اصول وضوابط ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں: 1۔ عدل و انصاف کو پیش نظر رکھ کر ان میں صلح کرادی جائے۔ 2۔ اگر کسی کو اپنے پڑوسی کی زمین کے ساتھ ساتھ یا اس کی سطح پر پانی چلانے اور جاری کرنے کی ضرورت ہوتو اس بارے میں کسی معاوضے پر دونوں صلح کرلیں توجائز ہے کیونکہ ضرورت اس کی متقاضی ہے۔اگر یہ معاوضہ کسی فائدے کے مقابلے میں ہے جبکہ صاحب زمین کی ملکیت برقرار رہے تو یہ عقد"اجارہ" کے حکم میں ہے اور اگر صاحب زمین کی ملکیت ختم ہوگئی تو یہ بیع کی صورت ہوگی۔ 3۔ اگر کسی کو اپنے پڑوسی کی زمین میں سے گزرگاہ کی ضرورت ہوتو وہ پڑوسی سے صلح کرلے یا راستے کی ضرورت کے مطابق جگہ خرید لے ،دونوں طرح جائز ہے کیونکہ ضرورت وحاجت اسی کی متقاضی ہے۔مالک زمین کے لیے لائق نہیں کہ وہ اپنے پڑوسی کو گزرگاہ کے استعمال سے منع کرے یا اس کی مجبوری سےناجائز فائدہ اٹھائے یا اسے اس کے فائدے سے محروم کردے۔ 4۔ اگردرخت کی کوئی شاخ بڑھ کر پڑوسی کی زمین پر اس کی فضا میں چلی گئی تو درخت کے مالک کو چاہیے کہ اسے