کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 92
پاس موجود ہے۔پھر صاحب حق اپنے قرض کی کچھ رقم لینے اورکچھ رقم معاف کرنے پر صلح کرلے یا اس چیز کا کچھ ہبہ کردے اور باقی وصول کرلے تو جائز ہے۔صلح کی اس صورت کے جواز کے لیے درج ذیل شرائط ہیں: ایک شخص دوسرے کے حق کا اعتراف کرتا ہے مگر یہ شرط لگاتا ہے کہ"میں کچھ لے کر ہی اس کی ادائیگی کروں گا۔" تو یہ اس کے لیے جائز نہیں ۔یا صاحب حق کہے:"میں تجھے اس شرط پر بری قراردیتا ہوں یا فلاں شے ہبہ کرتا ہوں کہ تو مجھے اس قدر رقم ادا کردے۔"تو اس قسم کی شرط بھی درست نہیں کیونکہ صاحب حق کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مکمل حق کا مطالبہ کرے۔ اس قسم کی صلح کے لیے یہ شرط بھی ہے کہ وہ حق کی ادائیگی کو صلح کے ساتھ مشروط نہ کرے کیونکہ یہ دوسرے کے مال کو ناحق کھانا ہے جو حرام ہے،نیز حق والے کو اس کا حق بغیر کسی قید وشرط کے ادا کرنا واجب ہے۔ صاحب حق ایسا شخص ہو جوہبہ کرسکتا ہو۔اگر ہبہ کرنے کا حق نہ رکھتا ہوتو ایسی صلح جائز نہیں،مثلاً: کوئی یتیم یا مجنون کےمال کا ولی ہے تو وہ یتیم ومجنون کے مال کامالک نہیں،اس لیے وہ صلح کی خاطر کسی کو یہ مال بھی نہیں دے سکتا۔ الغرض صلح کی مذکورہ بالاصورت بیان کردہ شرائط کے ساتھ جائز ہے کیونکہ اس کا تعلق رضا مندی اور خوشی سے ہے۔کسی انسان کو اپنے حق میں سے کچھ حصہ معاف کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا جس طرح کہ اسے سارا حق وصول کرنے سے روکا نہیں جاسکتا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے قرض خواہوں سے بات چیت کی کہ اس کے قرضے کا کچھ حصہ معاف کردیں۔ اقرار پر مبنی صلح کی دوسری صورت یہ ہے کہ صاحب حق کو متنازعہ چیز کے علاوہ کوئی اور چیز دینے پر مصالحت کر لے ،مثلاً:ایک شخص دوسرے کے قرض کا یا کسی متعین چیز کا اعتراف کرے،پھر صاحب حق کو متنازعہ چیز کے عوض میں کوئی اور چیز دینے پر صلح کرلے۔اگر ایک شخص نقد رقم کے عوض میں نقد رقم سے صلح کرتا ہے تو یہ"بیع صرف" کےحکم میں ہے جو جائز ہے۔اور اگر کوئی نقد رقم کے عوض میں کوئی اور چیز دینے کی شرط پر صلح کرتا ہے تو یہ بیع بن جائے گی اور اس پر بیع کے احکام جاری ہوں گے۔اور اگر کسی نے کسی مال کے عوض میں اپنے گھر میں رہائش کی سہولت دینے پر صلح کی تو یہ اجارہ(کرایہ پر دینا) ہے،اس پر کرائے کے احکام جاری ہوں گے ۔اگر کسی نے نقدی کے سوا کسی اور چیز کے عوض کوئی دوسری مالی چیز دینے پر صلح کی،مثلاً:بھینس کے عوض گائے دینے پرصلح کی تو یہ صلح بیع کے