کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 90
"وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ" "اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر دونوں میں سے ایک دوسری( جماعت )پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے،پھر اگر (اللہ کے حکم کی طرف) لوٹ آئے تو عدل کے ساتھ ان میں صلح کرا دو اور انصاف کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ " ایک اور مقام پر فرمایا: "لَّا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا" "ان کی اکثر خفیہ سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں مگر جو شخص خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے اور جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادے سے یہ کام کرے توہم اسے یقیناً بہت بڑا ثواب دیں گے۔" نیز فرمایا: "فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ" "سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے: "الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا " "مسلمانوں میں صلح جائز(نافذ ہونے والی) ہے الایہ کہ جو حلال کوحرام کردے یا حرام کو حلال بنادے۔" نیز خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان صلح کروانے میں دلچسپی لیا کرتے تھے۔ جائز صلح کی بنیاد عدل وانصاف پر ہوتی ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔اس کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔اس کے بعد دونوں کوراضی کرنا بھی مقصود ہوتا ہے۔ لوگوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کوئی ایسا شخص موجود ہوجوجھگڑے کے حالات و