کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 80
قول و اقرار معتبر نہ ہو گا۔ الغرض سارے مال میں کسی قسم کا مالی تصرف کرنا اس پر حرام ہے تاکہ قرض خواہوں کا تقصان نہ ہو۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’اگر اس کا سارا مال قرض میں گھر ہو تو اپنا خرچ نہ کرے کیونکہ اس سے قرض خواہوں کو ضرر پہنچتا ہے، خواہ قاضی نے اس پر مال خرچ کرنے کی پابندی لگائی ہو یا نہ لگائی ہو۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ باقی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ایسا شخص حاکم کی پابندی سے قبل مال میں تصرف کر سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک پہلا قول اصول شرع کے موافق ہونے کی وجہ سے زیادہ راجح اور صحیح ہے ،اس لیے کہ اس مال کے ساتھ قرض خواہوں کا حق وابستہ ہے تبھی تو قاضی اس پر پابندی لگائے گا اور اگر اس کے مال کے ساتھ قرض خواہوں کا حق وابستہ نہ ہو تو قاضی اس پر پابندی نہیں لگا سکتا تھا، اس قسم کے قرض خواہ کی مثال اس مریض کی سی ہے جو قریب المرگ ہو کہ جب اس کے مال کے ساتھ وارثوں کا حق وابستہ ہے تو شریعت نے اسے تہائی مال سے زیادہ خرچ کرنے سے روک دیا ہے کیونکہ اگر اس کو مال میں تصرف کا حق دے دیا جائے تو اس سے ورثاء کی حق تلفی ہو گی۔ اسی طرح اس مقروض کو اس کے اپنے مال میں تصرف کا حق دینے سے قرض خواہوں کے حقوق تلف ہوتے ہیں۔شریعت نے اس طرح حقوق پامال نہیں کیے بلکہ شریعت تو دوسروں کے حقوق کی پاسداری اور مال کے ضیاع کا سد باب کرنے کا درس دیتی ہے۔‘‘  دوسرا حکم اگر کسی نے محجور علیہ کے پاس اپنا وہ سامان بعینہ موجود پایا جو اس نے پابندی لگنے سے پہلے اسے فروخت کیا تھا یا بطور قرض یا اجرت پر دیا تھا تو اسے وہ مال یا سامان لینے کا حق حاصل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ أَوْ إنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ " "جس نے مفلس کے ہاں اپنا مال(سامان )بعینہ موجود پایا، وہی اسے واپس لینے کا دوسرے کی نسبت زیادہ حقدار ہے۔" جس کا مال مفلس کے پاس ہواسے بعینہ واپس لینے کے بارے میں فقہائے کرام نے چھ شرائط مقرر کی ہیں جو درج ذیل ہیں: 1۔ مال واپس لیتے وقت مفلس زندہ ہو، یعنی فوت نہ ہو چکا ہو۔ چنانچہ ابو داؤد کی روایت میں ہے: "وَإِنْ مَاتَ الْمُشْتَرِي فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ"