کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 79
گزشتہ بحث سے واضح ہوا کہ مقروض کی دوحالتیں ہیں: 1۔ جس کے قرض کی مدت باقی ہو۔ اس شخص سے مدت مقررہ سے قبل ادائیگی قرض کا مطالبہ نہ کیا جائے گا کیونکہ وقت سے پہلے اس کی ادائیگی اس پر واجب نہیں۔ اور اگر اس کا مال قرض کی رقم سے کم ہے تو مدت سے پہلے اسے مال میں تصرف کرنے سے روکانہیں جائے گا۔ 2۔ جب قرض کی مدت پوری ہو چکی ہو اور اس کی ادائیگی کا وقت ہو تو ایسے مقروض کی دو صورتیں ہیں۔ اس کے قرض کی نسبت موجود مال بہت زیادہ ہو۔ ایسے شخص کے مال پر تصرف کی پابندی نہیں لگائی جائےگی ،البتہ اسے حکم دیا جائے گا کہ وہ قرض خواہ کا قرض ادا کرے ۔ اگر وہ قرض ادا نہ کرے تو اسے قید کیا جائے گا اور سزا دی جائے گی حتی کہ اس کے مال سے قرضوں کی ادائیگی ہو جائے اگر وہ قید اور سزا برداشت کر جائے اور قرض ادا نہ کرے تو حاکم دخل اندازی کر کے اس کا سامان فروخت کرکے ادائیگی کرے گا۔ اس کے قرض کی نسبت موجود مال بہت کم ہو۔ ایسے شخص کو قرض خواہوں کے مطالبے کی صورت میں مالی تصرف سے روک دیا جائے گا تاکہ ان کا نقصان نہ ہو جیسا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر مال میں تصرف نہ کرنے کی پابندی لگا دی تھی پھر ان کامال فروخت کر کے پورا قرض ادا کیا۔‘‘  امام ابن صلاح فرماتے ہیں:یہ حدیث ثابت ہے۔ جب کسی شخص پر مال میں تصرف نہ کرنے کی پابندی عائد کی جائے تو اسے مشتہر کیا جائے، یعنی اس کا اعلان کیا جائے کہ "فلاں شخص پر اس کے مال میں تصرف پر پابندی لگا دی گئی ہے۔" تاکہ لوگ دھوکا نہ کھائیں اور اس سے مالی معاملہ کر کے نقصان نہ اٹھائیں۔ محجور مال سے متعلق چاراحکام ہیں: پہلا حکم کسی مفلس شخص کے پاس مالی تصرف کی پابندی لگنے سے پہلے جو مال موجود تھا اس پر قرض خواہوں کا حق ہے، نیز اگر کچھ مال مذکورہ پابندی کے بعد وراثت دیت، ہبہ یا وصیت وغیرہ کے سبب حاصل ہوا تو پابندی کا اطلاق اس مال پر بھی ہو گا، لہٰذا محجور علیہ کے لیے اجازت نہیں کہ وہ پابندی لگنے کے بعد حاصل ہونے والے مال میں کسی قسم کا تصرف کرے۔ اسی طرح اپنے مال میں کسی اور شخص کے حق کا اقرارکرے گا تو اس کا ا قرار تسلیم نہ ہو گا کیونکہ قرض خواہوں کے حقوق اس کے سارے مال سے متعلق ہیں، لہٰذا کسی اور شخص کے حق کے بارے میں اس کا