کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 75
2۔ اسی طرح وہ اپنی اولاد ، باپ ، بیوی کو اور ان افراد کو جن کی اس کے حق میں شہادت معتبر نہیں کوئی شے فروخت کر سکتا ہے نہ خرید سکتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس پر قرابت داروں کو نواز نے کی تہمت لگ سکتی ہے جس طرح کہ اپنی ذات کے حق میں بیع کرنے سے وہ متہم ہو سکتا ہے۔ مؤکل اور وکیل کے اختیارات تصرف عقد وکالت میں جو کام مؤکل سے متعلق ہیں وہ یہ ہیں: 1۔ شے کی قیمت ادا کرنا۔ 2۔ خریدی ہوئی شے کو قبضے میں لینا۔ 3۔ شے میں عیب ہو تو اسے واپس کرنا اور اس کے تاوان کو پورا کرنا۔ وکیل بیع کے وقت (خریدار کو) فروخت شدہ شے حوالے کر دے گا لیکن مؤکل کی اجازت یا اجازت کے قرینے کے بغیر اس کی قیمت وصول نہیں کرے گا۔ اگر اس نے کسی ایسی جگہ شے فروخت کی کہ اگر اس پر قبضہ نہ کرے گا تو قیمت ضائع ہو سکتی ہے تو اس صورت میں وہ مؤکل کی اجازت کے بغیر اسے وصول کر سکتا ہے جبکہ وکیل خریداری کے وقت قیمت ادا کرے گا کیونکہ یہ وکیل کے حقوق میں شامل ہے۔ جس شخص کو کسی متنازعہ فیہ شے کے بارے میں بحث و مجادلہ کے لیے وکیل بنایا گیا ہو۔ اسے وہ چیز قبضے میں لینے کا اختیار نہیں لیکن جسے قبضہ اور وصولی کے لیے وکیل بنایا گیا ہے۔وہ بحث و تکرار کرنے کا حق رکھتا ہے کیونکہ اس (بحث و تکرار ) کے بغیر وہ قبضہ نہیں لے سکتا۔ وکیل کس نقصان کا ذمہ دار ہو گا اور کس کا نہیں وکیل امین ہوتا ہے۔ وکیل سے اگر نقصان ہو جائے اور اس میں کوتاہی نہ ہو تو وہ "ضامن" نہیں ہے، یعنی نقصان پورا کرنے کا ذمہ دار نہیں لیکن اگر نقصان میں اس کی سستی یا زیادتی کو دخل ہو یا اس سے مال طلب کیا جو اس نے بلا عذر نہ دیا تو وہ ذمہ دار ہو گا۔ بیع اور اجارہ وغیرہ میں قیمت اور اجرت کی وصولی یا ان کے نقصان یا ان کی مقدار سے متعلق کی بات قابل قبول ہو گی ۔واللہ اعلم۔ حجرکے احکام دین اسلام لوگوں کے اموال اور ان کے حقوق کا محافظ ہے، اسی لیے اس میں پابندی کے مستحق شخص پر