کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 73
علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم زکاۃ وصول کرنے والے عمال کو اپنا وکیل بنا کرروانہ کیا کرتے تھے۔ وکالت کے جواز پر امت کا اجماع ہے نیز لوگوں کی حاجت و ضرورت اس کے جواز کی متقاضی ہے کیونکہ ہر شخص اپنی ضروریات کا ہر کام نہیں کر سکتا۔ وکیل کے تقرر کے لیے کلمات جس لفظ کے ذریعے سے کسی کام کے کرنے کی اجازت معلوم ہو اس سے "وکالت " کا انعقاد ہو جاتا ہے۔"مثلاً:" فلاں کام کردو۔" یا" میں تمھیں فلاں کام کرنے کی اجازت دیتا ہو۔"الغرض اس کے لیے کسی مخصوص لفظ کی ضرورت نہیں ہے۔ وکالت کو قبول کرنا فوراً یا تاخیر سے درست ہے ہر اس فعل اور قول کے ذریعے سے جو قبولیت پر دلالت کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وکلاء کا وکالت قبول کرنا ان کے وکیل بنائے جانے کے بعد ہو تا تھا۔ وکالت میں وقت کی تعیین کرنا یا کسی شرط کا مقرر کرنا بھی درست ہے مثلاً: کوئی کہے:" تم ایک ماہ تک میرے وکیل ہو۔" "یا کوئی کہے:" جب میرےاس مکان کے کرایہ کی مدت پوری ہو جائے تو تم میرا یہ مکان فروخت کر دینا۔" وکیل کی تعیین اور تخصیص ضروری ہے۔ اگر کوئی کہے کہ میں نے ان دو شخصوں میں سے ایک کو وکیل مقرر کیا یا کوئی ایسے شخص کو وکیل بنادےجسے وہ جانتا پہچانتا نہیں تو یہ درست نہ ہو گا۔ شرائط وکالت جن شخصی حقوق میں کسی کی نیابت ہو سکتی ہو، ان میں وکالت درست ہے، چنانچہ کسی امر کے انقاد،مثلا:بیع، خریداری ،اجارہ ،قرض ،مضاربت وغیرہ یا فسخ مثلاً: طلاق ، خلع ، عتق اور اقالہ وغیرہ۔ اسی طرح عبادات میں سے اللہ تعالیٰ کے جن حقوق میں نیابت ہو سکتی ہے ان میں وکالت درست ہے، مثلاً:صدقہ کی تقسیم ، زکاۃ نکالنا، نذر ، کفارہ ،حج اور عمرہ کی ادائیگی کیونکہ اس کے بارے میں شرعی دلائل موجود ہیں۔ عبادات میں سے اللہ تعالیٰ کے جن حقوق میں نیابت نہیں ہو سکتی، مثلاً: عبادات بدنیہ ، جیسے نماز، روزہ، اور طہارت وغیرہ میں کوئی شخص اپنا وکیل مقرر نہیں کر سکتا کیونکہ یہ عبادات اسی کے بدن سے متعلق ہیں جس پر فرض ہیں۔ حدود ثابت کرنے اور اس کے نفاذ میں بھی وکالت درست ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا: "وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا" "اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے سنگسار کر دینا۔"