کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 66
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "الزَّعِيْمُ غَارِمٌ" ضامن ادائیگی کرے گا۔" علاوہ ازیں ضمان کے جواز میں علماء کا اجماع ہے کیونکہ مصلحت اسی کی متقاضی ہے اور لوگوں کو اس کی اشد حاجت اور ضرورت پڑتی ہے نیز اس کا تعلق نیکی اور تقوی میں تعاون کرنے مسلمان کی ضرورت پوری کرنے اور اسے مشکل سے نکالنے سے ہے۔ ضامن کے لیے عاقل و بالغ ہونا ضروری ہے ،لہٰذا بے وقوف اور بچے کا ضمان درست نہ ہو گا، نیز ضامن کا ضمانت پر رضا مند ہونا ضروری ہے ۔جبر واکراہ کی صورت میں ضمان صحیح نہ ہو گا کیونکہ ضمان تبرع اور احسان کے ساتھ کسی کا حق قبول کرنے کا نام ہے اور تبرع میں رضا مندی ضروری ہوتی ہے۔ ضمان ایک ایسا عقد ہے جس میں مضمون عنہ کے ساتھ تعاون کرنا مقصود ہوتا ہے ،لہٰذا اس کام میں معاوضہ لینا جائز نہیں۔ ضمان کے عوض معاوضہ لینا ایسے ہی حرام ہے جیسے قرض دے کر نفع حاصل کرنا ،لہٰذا ضامن کو چاہیے کہ قرض خواہ کے مطالبے پر اس کی رقم یا مال ادا کردے اور معاوضہ لینے سے بہر صورت اجتناب کرے۔لوگوں کے ساتھ تعاون و ہمدردی کرے۔ ظلم و زیادتی کر کے محتاج کو مشکل میں ڈالنا نیکی اور اعانت نہیں۔ ضمانت قبول کرتے وقت کوئی بھی کلمات کہے جا سکتے ہیں جن سے ضمانت کا مفہوم ادا ہو جائے، مثلاً: " انا ضمين یا انا قبيل‘یا انا حميل‘يا انازعيم" میں ضامن ہوں یا میں قبول کرتا ہوں یا میں(اس کو) اٹھاتا ہوں یا میں (اس کا)ذمے دار ہوں۔" یا یوں کہے کہ میں تیرے قرض کو اٹھاتا ہوں یا وہ میرے پاس ہے وغیرہ ۔الغرض جس لفظ سےبھی ضمانت کا مفہوم ادا ہوتا ہو جائز ہے کیونکہ کسی حدیث میں کوئی مخصوص اور متعین کلمات وارد نہیں ہوئے ،لہٰذا اس میں عرف کا اعتبار ہو گا۔ صاحب حق اپنے حق کا مطالبہ ضامن یا مضمون عنہ کسی سے بھی کر سکتا ہے کیونکہ اس کا حق دونوں کے ذمے ہے، لہٰذا جس سے چاہے اپنا حق طلب کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:"الزَّعِيْمُ غَارِمٌ" "ضامن حق ادا کرے گا۔""زعیم" ضامن کو کہتے ہیں اور"عازم" جس کے ذمے کوئی حق لازم ہو۔ اور یہی جمہور کا قول ہے۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ صاحب حق کا ضامن سے مطالبہ کرنا جائز نہیں الایہ کہ مضمون عنہ سے مطالبہ کرنے