کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 60
قرض دینے والے کو اچھے انداز سے واپس کرنے والا قرض دار نہیں ملتا ،اس لیے لوگوں میں ایک دوسرے سے حسن سلوک کا رواج ختم ہو گیا ہے۔ رہن (گروی شے) کے احکام رہن کے لغوی معنی" ثابت اور پختہ" کے ہیں جبکہ شرعی مفہوم یہ ہے کہ"قرض کی پختگی کے لیے کوئی چیز قرض خواہ کے پاس رکھنا تاکہ وہ عدم ادائیگی کی صورت میں اس چیز سے یا اس کی قیمت سے اپنا قرض مہیا کر سکے۔" رہن کا جواز قرآن و سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَإِن كُنتُمْ عَلَىٰ سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَّقْبُوضَةٌ " "اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو کوئی چیز گروی (رہن کے طور پر ) قبضے میں رکھ لی جائے۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس(قرض کے عوض میں) گروی تھی۔ سفر میں رہن کے جواز پر علماء کا اجماع ہے جب کہ جمہور علماء نے حضر میں بھی رہن کو جائز قراردیا ہے۔ رہن کی مشروعیت میں شاید حکمت یہ ہے کہ لوگوں کے اموال کو ضائع ہونے سے محفوظ رکھنا اور بچانا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرض کی توثیق کے لیے اولاً لکھنے کا حکم دیا اور کاتب کے میسر نہ آنے کی صورت میں رہن رکھنے کی تاکید کی جیسا کہ ارشاد بانی ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا