کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 59
اور قرب الٰہی حاصل کرنا ہے۔ اگر یہ مقاصد پیش نظر رہیں تو اللہ تعالیٰ قرض خواہ کے مال میں برکت کرے گا اور اسے بڑھائے گا۔ واضح رہے کہ قرض کی واپسی کےو قت زیادہ مال لینا ممنوع ہے جبکہ قرض دیتے وقت شرط رکھی جائے ،مثلاً: کوئی کہے:" میں تجھے اس شرط پر قرضہ دیتا ہوں کہ میرا قرض واپس کرتے وقت تمھیں اس قدر رقم زیادہ دینا ہو گی یا قرضہ واپس کرنے تک اپنا گھر رہائش کے لیے مجھے دینا ہو گا یا دوکان دینا ہوگی یا مجھے فلاں چیز ہدیہ میں دیناہوگی یا اس قسم کی شرط جو زبان سے تو کہی نہ جائے لیکن اس کی خواہش یا حرص رکھے۔ یہ سب کام حرام ہیں۔ اگر مقروض محض جذبہ احسان و تشکر کے طور پر اپنی طرف سے قرض سے زیادہ رقم لوٹاتا ہے تب کوئی حرج نہیں بلکہ یہ عمل حسن ادائیگی میں شامل ہو گا کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ ادھار خریدلیا تو اس کی ادائیگی اس سے بہتر اونٹ کی شکل میں کی تھی۔اور فرمایا: "خَيْركُمْ أَحْسَنكُمْ قَضَاءً" "تم میں سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھی ادائیگی کرے۔" علاوہ ازیں یہ برتاؤ عرفاً اور شرعاً اچھے اور اعلیٰ اخلاق میں شمار ہوتا ہے اور یہ سود بھی نہیں کیونکہ قرض خواہ کی طرف سے یہ شرط نہ تھی، نہ ان میں یہ بات باہم اتفاق سے طے پائی تھی بلکہ یہ زیادہ مال مقروض نے خوش دلی کے ساتھ دیا ہے۔ اسی طرح اگر مقروض قرض خواہ کو قرضہ لینے سے پہلے کوئی تحفہ دیتا یا کوئی نفع مہیا کرتا ہو تو قرض دینے کے بعد قرض خواہ حسب معمول اس کا تحفہ یا نفع قبول کر سکتا ہے ممانعت کی کوئی وجہ نہیں۔ مقروض شخص پر لازم ہے کہ استطاعت کے وقت قرض خواہ کو اس کا قرض اچھے طریقے سے لوٹا دے اور اس میں ٹال مٹول نہ کرے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ" "احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے۔" بعض لوگ حقوق العباد میں عموماً اور قرض کے معاملہ میں خصوصاً سستی و کوتاہی کر جاتے ہیں جو کہ نہایت مذموم خصلت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سے لوگ قرض دینے سے کتراتے ہیں۔ محتاجوں کے ساتھ وسعت ظرفی سے پیش نہیں آتے۔جب محتاجوں کو قرضہ دینے والا کوئی نہیں ملتا تو یہ لوگ سودی بنکوں کا رخ کرتے ہیں ،ان سے حرام لین دین کرتے ہیں کیونکہ ضرورت مند کوکوئی قرض حسنہ دینے پر تیار نہیں ہوتا اور