کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 55
2۔ شے کی جنس اور اس کی نوع کا ذکر ہو، مثلاً: جنس چاول ہوگی اور اس کی قسم" باسمتی" ہو گی۔ 3۔ شے کا ماپ، وزن اور پیمائش کا تذکرہ ہو جیسا کہ اوپرروایت میں گزر چکا ہے۔ اگر چیز کی مقدار معلوم و متعین نہ ہو گی تو اس کی وصولی مشکل ہوگی۔ 4۔ شے کی ادائیگی کی مدت متعین ہو۔ اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: "إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ"ہے، یعنی اس کی مدت متعین ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ" "جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔" 5۔ مدت ادا ئیگی کے لیے ضروری ہے کہ اس وقت شے کی جنس کا پایا جانا ممکن ہوتا کہ بائع وقت مقرر پر اسے مشتری کے حوالے کر سکے ورنہ بیع سلم جائز نہ ہو گی ، مثلاً: تازہ انگور کی ادائیگی کا وقت موسم سرما مقرر نہ کیا جائے کیونکہ اس میں ادائیگی ممکن نہیں۔ 6۔ بیع سلم میں مجلس میں مقرر قیمت مکمل طور پر نقد ادا کر دی جائے جیسا کہ گزشتہ روایت میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:" جو بیع سلم (سلف) کرے وہ معلوم ماپ کے ساتھ کرے۔" "فَلْيُسْلِفْ"کا مطلب ہے ادائیگی کردے۔ اس کی وجہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ"اس عقد کو بیع سلم اس وقت تک نہیں کہا جاسکتا جب تک مشتری بیع کی مجلس میں اٹھنے سے پہلے تمام رقم ادا نہ کر دے کیونکہ اگر بائع مجلس میں رقم وصول نہ کرے گا تو دین (قرض) کی بیع دین( قرض) ادھار کے ساتھ ہو گی جو ناجائز ہے۔ 7۔ جس شے میں بیع سلم ہو وہ متعین بالذات نہ ہو بلکہ بائع کے ذمہ میں ہو، اسی وجہ سے متعین گھر اور درخت میں سلم جائز نہیں کیونکہ متعین چیز ادا ئیگی سے قبل تلف بھی ہو سکتی ہے، لہٰذا مقصد فوت ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں اگر ممکن ہو تو" مسلم فیہ" (جس سامان میں بیع سلم ہوئی ہے) کی ادائیگی "محل عقد" جہاں معاہدہ طے پایا ہے) میں کی جائے اور اگر ممکن نہ ہو، مثلاً:انھوں نے کسی جنگل یا سمندر میں معاہدہ کیا ہو تو چیز کی ادائیگی کی جگہ کا