کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 53
پہنے جاتے ہیں۔ اسی طرح جانور کی بیع میں اس کی لگام، نکیل اور اسے لگی ہوئی کھریاں بھی شامل ہوں گی کیونکہ عرف میں یہ چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ اور جو چیز عرف میں بکنے والی چیز کے ساتھ ملحق نہ ہواور بکنے والی چیز کی ضرورت میں سے نہ ہو تو وہ فروخت شدہ چیز کے ساتھ شامل بھی نہیں ہو گی ،مثلاً: غلام کا مال یا غلام کی خوبصورتی کے کپڑے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "مَنْ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ،فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " "جس نے ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہے تو اس کا مال بائع کے لیے ہوگاالایہ کہ مشتری اس کی شرط کر لے۔" واضح رہے کہ مال غلام سے زائد چیز ہے، لہٰذا وہ غلام کی بیع میں شامل نہ ہوگا ۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کسی کے پاس دو غلام ہوں اور ان میں سے ایک فروخت کردے نیز غلام اور مال آقا کا ہوتا ہے جب اس نے غلام کو بیچ دیا تو مال آقا کے پاس باقی رہے گا۔ اگر مشتری نے بیع میں غلام کے ساتھ مال کی بھی شرط لگادی تو غلام کی بیع میں مال بھی شامل ہوگا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ"’’ اگر خریدار شرط لگادے تو درست ہے۔‘‘  بیع سلم کا بیان بیع سلم کو بیع سلف بھی کہتے ہیں جس میں قیمت نقد اور شے ادھار ہوتی ہے۔فقہائے کرام نے بیع سلم کی تعریف یوں کی ہے: " هو عقد على موصوف في الذمة مؤجل بثمن مقبوض في مجلس العقد "