کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 529
ہوں گی کیونکہ اس نےدرمیانی جگہ کااقرار کیا ہے۔ (15)۔اگر کسی نے اقرار کیا کہ یہ درخت فلاں کے ہیں تو اس کے اقرار کااطلاق اس زمین پر نہیں ہوگا جہاں درخت نہیں ہیں،لہذااگر یہ درخت ختم ہوجائیں تو وہاں وہ نئے درخت لگانے کا حقدار نہ ہوگا۔اور زمین کا مالک ان درختوں کو اکھاڑبھی نہیں سکتا کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ اس نے قانون کےدائرے میں رہتے ہوئے(مثلاً:زمین کے مالک کی اجازت سے) لگائے ہوں گے،البتہ اگراس نے اقرارمیں باغ کا نام لیا تو اس اقرار میں درخت ،عمارت اور زمین سب اشیاء شامل ہوں گی کیونکہ باغ کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہوتاہے۔ (16)۔اگر کسی نے کہا:میرے ذمے فلاں شخص کی کھجوریں ہیں جو تھیلی میں ہیں یا چھری ہے جوکور میں ہے یاکپڑا ہے جو رومال میں بندھا ہوا ہے تو یہ کھجوروں ،چھری اورکپڑے کا اقرار ہوگا، تھیلی،کور اور رومال کا نہیں۔اسی طرح کسی بھی چیز کااقرار کرتے وقت اس کا دوسری چیز میں ہونے کا ذکر کیا جائے تو وہ صرف پہلی چیز کا اقرار ہوگا کیونکہ ظرف اور مظروف کاایک ہی شخص کی ملکیت ہونا ضروری نہیں اور احتمال کے ساتھ اقرار لازم نہیں ہوتا۔ (17)۔اگر کسی نے کہا:"یہ شے میرے اور فلاں شخص کے درمیان مشترک ہے۔"تو شریک کا حصہ معلوم کرنے کے لیے اقرار کرنے والے سے رجوع کیا جائے گا۔بعض کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شے دونوں میں نصف نصف ہے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ مطلق شراکت کا اقرار دونوں شریکوں میں شے کے برابر برابر ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: "فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ""یہ سب ایک تہائی حصے میں شریک ہوں گے۔" (18)۔جس شخص کے ذمے کسی کا کوئی حق ہے تو اس کا اقرار اور ادائیگی کا بندوبست اسی وقت واجب ہوجاتاہے جب اس کی ضرورت ہو۔اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: "كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ " "(اے ایمان والو!) عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مولا کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ،گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو۔" نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ "