کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 523
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" مکتوب الیہ(قاضی) غیر معین بھی ہوسکتا ہے،مثلاً:قاضی کہے:میری یہ تحریر بلاتعیین مسلمانوں کے ان تمام قاضیوں کی طرف ہے جن کو یہ خط پہنچے ،لہذا یہ تحریر جس قاضی تک پہنچ جائے اسے قبول کرنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے کسی معین قاضی کی طرف لکھی گئی تحریر۔" (2)۔قاضی کا خط قاضی کے لیے تب قبول ہوگا جب لکھنے والا اپنی تحریر پر دو عادل گواہوں کی شہادت ثبت کرےگا۔اس کے بارے میں علماء کی دوسری رائے یہ ہے کہ ایک قاضی کے لیے دوسرے قاضی کی تحریر پر عمل کرنا تب جائز ہےجب وہ لکھنے والے قاضی کا انداز تحریر پہچانتا ہو،اس صورت میں گواہوں کی ضرورت نہیں۔امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے یہی منقول ہے۔اس دور میں گواہوں کے بجائے قاضی کی تحریر کے نیچے اس کے دستخط اور عدالت کی مہرلگادی جائے تو کافی ہے۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اجماع ہے کہ تحریر پر اعتماد کرکے کاروائی کرنا درست ہے۔خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم بھی اس پر عمل کرتے رہے۔علم کے میدان میں تحریرکا ذریعہ ہمیشہ سے قابل اعتماد رہاہے۔اس پر عمل چھوڑدیا جائے تو شریعت کے بہت سے احکام معطل ہوکررہ جائیں۔" شہادت پر شہادت شہادت پر شہادت یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کو کہے:"میری فلاں گواہی پر گواہ رہو یا گواہ رہو کہ میں فلاں فلاں بات کی گواہی دیتا ہوں وغیرہ۔"اس میں نیابت کامفہوم پایا جاتا ہے۔فقہ میں اصلی گواہ کو "شاہد الاصل" اور اس کے نائب کو"شاہد الفرع" کہا جاتا ہے۔ علامہ ابوعبید رحمۃ اللہ علیہ نے مالی امور میں گواہی پرگواہی کے جواز پر حجاز اورعراق کےعلماء کااجماع نقل کیاہے۔امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کے جواز کافتویٰ دیاہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کی ضرورت ہے۔اگراس کو قبول نہ کیا جائے تو وہ گواہیاں کالعدم ہوجائیں گی جو وقف کے بارے میں ہوں اور انھیں حاکم کے پاس ثابت کرنے میں تاخیرہوجائے یا اس کے گواہ فوت ہوگئے ہوں۔اس کے نتیجے میں لوگوں کانقصان ہوگا اور بہت مشقت کاسامنا کرنا پڑے گا۔اس لیے شاہد الاصل کی طرح گواہی پر گواہی کو بھی قبول کرنا ضروری ہے۔ (3)۔گواہی پر گواہی کے قبول ہونے کے لیے چند ایک شرائط یہ ہیں: 1۔شاہد الاصل اپنے شاہد الفرع کو اس کی اجازت دے کیونکہ شاہد الفرع کا عمل نیابت کے حکم میں ہے اور نیابت اصل کی اجازت کے بغیر درست نہیں ہوتی۔