کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 522
اگر دوسرے شہر میں ہو، اس کے پاس سے ثابت کرنے اور اس کا مطالبہ کرنے کے لیے یہی طریقہ ہے کہ اس شہر کے قاضی کے پاس اپنا حق ثابت کرے اور اس مقصد کے لیے تحریری درخواست بھیجے تاکہ عدالتی کاروائی مکمل کی جاسکے کیونکہ گواہوں کو سفرکرواکر حاضر کرنا مشکل ہوتاہے۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی گواہ ایک شہر میں معروف ہو اور دوسرے شہر میں اسے کوئی جانتا نہ ہو۔اس صورت میں ایک قاضی کے دوسرے قاضی سے خط کتابت کیے بغیر حق ثابت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر قاضی دوسرے قاضی کو خط لکھے تو اس کے قبول ہونے پر امت مسلمہ کا اجماع ہے تاکہ حقوق کااثبات اوراس کا نفاذہوسکے۔سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کی طرف خط لکھاتھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی،قیصر اور کسریٰ کی طرف خطوط لکھے تھے جس میں انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمال اور اہل کاروں کی طرف خطوط لکھتے تھے جن میں انھیں حالات کے مطابق ہدایات دیتے تھے۔ان دلائل سے ثابت ہوا کہ تحریری طور پر بھیجی ہوئی ہدایات ومعلومات پر عمل کرنا اور فیصلے میں اسے اہمیت دیناشرعاً درست ہے۔ وہ خط قبول ہوگا جو کسی آدمی کے حق سے متعلق ہے۔حدود اللہ سے متعلق کوئی مکتوب قبول نہ ہوگا،مثلا:زنایا شراب کی حد وغیرہ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حقوق اللہ میں ممکن حد تک پردہ پوشی مقصود ہے اور محض شک وشبہ کی بنا پر حدود نافذ نہ ہوں گی۔ (1)۔قاضی کاقاضی کی طرف خط دو قسم کا ہوتاہے: 1۔قاضی اپنا فیصلہ تحریر کرکے دوسرے قاضی کی طرف بھیجتا ہے تاکہ وہ اسے نافذ کرے۔ایساخط قبول ہوگا،اگرچہ کاتب اور مکتوب الیہ دونوں ایک ہی شہر میں رہتے ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حاکم کا فیصلہ ہرحال میں نافذ کرنا ضروری ہے ورنہ احکامات معطل ہوں گے اورتنازعات بڑھیں گے۔ 2۔قاضی دوسرے قاضی کی طرف ایسی بات لکھے جو اس کے ہاں متحقق اور ثابت شدہ ہوتاکہ دوسرا قاضی اس کی روشنی میں فیصلے دے۔اس قسم کی تحریر تب قبول ہوگی جب دونوں قاضیوں کے درمیان کم از کم اس قدر مسافت ہو جس قدر نماز قیصر کے لیے مقرر ہے کیونکہ مکتوب الیہ کی طرف گواہی منتقل کرنا قرب مسافت کی صورت میں جائز نہیں۔ ثابت شدہ امر کی اطلاع دوسرے قاضی کو دینے کاطریقہ یہ ہے کہ وہ لکھے:" میرے نزدیک یہ بات متحقق اور ثابت ہے کہ فلاں شخص کافلاں پر یہ یہ حق ہے۔" یاد رہے کہ اس قسم کی تحریر فیصلہ قرار نہیں دی جاسکتی بلکہ یہ ایک چیز کے تحقق کی اطلاع ہے(جس کی روشنی میں دوسرا قاضی اپنا فیصلہ صادر کرے گا۔)