کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 521
ہے کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ " "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدعی کی) قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ دیا۔" امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"امت مسلمہ میں یہ سنت (طریقہ) جاری ہے کہ قسم اور ایک گواہ سے فیصلہ ہوگا۔" علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ بالا روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:"یہ حدیث اس حدیث کے معاوض نہیں ہے جس میں ہے کہ" قسم مدعا علیہ پر ہے۔" کیونکہ مقصود یہ ہے کہ جب مدعی کے پاس صرف دعوی ہو دلیل نہ ہو تو محض دعوی کی وجہ سے اس کے حق میں فیصلہ نہ ہوگا، البتہ جب اس کی جانب گواہی یا کسی غیر واضح ثبوت وغیرہ کی وجہ سے راجح قرارپائی تو فیصلہ مدعی کے حق میں محض دعوے سے نہیں ہوا بلکہ اس کی جانب کو قسم اور گواہ وغیرہ سے اہمیت اور ترجیح ملی۔۔۔۔ ۔" 7۔ وہ امور جن کی مردوں کو عموماًخبر نہیں ہوتی،مثلاً:عورت کے وہ عیوب جو اس کے قابل ستر جسم کے حصے پر ہوں یا عورت کا کنواری ہونا ،نیز حیض ،ولادت ،رضاع اور نومولود بچے کا زندہ یا مردہ پیدا ہونا، ایسے امور میں ایک معتبر اور متقی عورت کی گواہی قبول ہوگی کیونکہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: " أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَ شَهَادَةَ الْقَابِلَةِ " "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلی دایہ کی شہادت کو قابل قراردیا۔" اگرچہ اس روایت کی سند میں کمزوری ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رضاعت کے مسئلے میں ایک عورت کی گواہی کو قبول کیا ہے۔"(جیسا کہ صحیح بخاری میں عقبہ بن حارث کا قصہ مذکورہے۔) قاضی کادوسرے قاضی کی طرف خط عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک قاضی کو دوسرے قاضی کی طرف خط لکھنے کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ ایک آدمی کا حق