کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 515
"وَلا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ" "اور جس بات کی تم کو خبرہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو۔" نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ""ہاں (مستحق شفاعت وہ ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انھیں علم بھی ہو۔" سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گواہی دینے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سورج کو دیکھتے ہو؟ اس نے کہا:ہاں!تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی واقعے کو اس طرح صاف و شفاف دیکھو تو گواہی دینا ور نہ چھوڑدینا۔" امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :" اس کی سند قابل اعتماد نہیں۔" اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے لیکن دوسرے دلائل سے یہ مسئلہ ثابت ہے۔" علم درج ذیل امور میں سے کسی ایک سے حاصل ہوتا ہے: 1۔قوت سماعت سے، یعنی آواز اور کلام سن کر۔ 2۔قوت بصارت سے کہ آدمی واقعے کو آنکھوں سے دیکھ لے۔ 3۔گواہ نے ایک واقعے کو اس قدر آدمیوں سے سنا کہ یقین کی حد تک علم ہو گیا، مثلاً: نسب یا موت کا ثبوت، البتہ کسی واقعے کی صرف مشہوری کی بنا پر گواہی دینا درست نہیں حتی کہ یقینی علم حاصل ہو جائے۔ کسی کی گواہی تب قبول ہوگی جب اس میں چھ شرائط موجود ہوں: 1۔ بلوغت:بچوں کی گواہی قبول نہ ہوگی الایہ کہ وہ معاملہ بچوں ہی کا ہو۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور فقہائے مدینہ رحمۃ اللہ علیہ کا عمل یہی رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر جرح کے معاملے میں بچوں کی گواہی قبول کرتے تھے کیونکہ ایسے معاملات میں بڑے افراد عام طور پر موجود نہیں ہوتے۔ اگر بچوں کی گواہی قبول نہ ہو تو بہت سے حقوق ضائع ہو جائیں گے۔ البتہ بچوں کی گواہی قبول کرنے کے لیے چند ایک شرائط ہیں جو درج ذیل ہیں:1۔معاملہ بچوں کا ہو۔2۔وہ اس قدر تعداد میں ہوں کہ ان کی خبر پر یقین ہو جائے۔3۔متفرق ہونے سے پہلے پہلے گواہی دیں۔4۔ان کا بیان ایک جیسا ہو۔ ان بچوں کی گواہی سے جوعلم ظنی حاصل ہو گا وہ دو آدمیوں کی گواہی سے حاصل ہونے والے علم ظنی سے بہت زیادہ قوی ہو گا، لہٰذا اس کو نہ رد کیا جا سکتا ہے نہ انکار کیا جا سکتا ہے۔‘‘