کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 512
وہ قسم بھی اٹھائے۔ جس کے ہاتھ میں شے ہوا سے"داخل" کہتے ہیں اور جس کے ہاتھ میں شے نہ ہوا سے"خارج"کہتے ہیں۔ اگر دونوں میں سے ہر ایک اپنے حق میں اس شے کی ملکیت کی دلیل یا گواہ پیش کردے تو فیصلہ اس کے حق میں ہوگا جس کے قبضے میں وہ چیز نہیں کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: "لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ، لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ" "اگر محض دعوے کی بنیاد پر لوگوں کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے تو بہت سے لوگ آدمیوں کے خونوں اور اموال میں دعوے کرنے لگیں گے، البتہ مدعا علیہ کے ذمے قسم ہے۔" ایک اور روایت میں ہے: " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي ، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ". "گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمے ہے اور قسم اس پر ہے جو دعوے کا انکار کرے۔" درج بالا دونوں روایات سے ثابت ہوا کہ گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمے ہے اگر وہ پیش کردے گا تو فیصلہ اس کے حق میں ہوگا ۔ قسم اٹھانے کی ذمے داری اس شخص پر ہے جودعوے کا انکار کر رہا ہے۔ مدعا علیہ قسم تب اٹھائے گا جب مدعی دلیل و شہادت پیش نہ کر سکے۔ اکثر اہل علم کی اس مسئلے میں یہ رائے ہے کہ شے اسے ملے گی جس کے قبضے میں ہے،جس کو"داخل"کہا جاتا ہے۔ اور حدیث اس بات پر محمول ہوگی کہ جس کے ہاتھ میں وہ شے ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو ورنہ جس کے قبضے میں وہ شے ہے اور اس کے پاس دلیل (گواہی) بھی ہے تو وہی زیادہ حقدار ہے کہ شے اس کے پاس رہے۔ اس کے بارے میں جمہور کا مسلک درست معلوم ہوتا ہے۔ اگر وہ شے جس کے بارے میں دونوں فریق دعوی رکھتے ہوں کسی ایک کے قبضے میں نہیں اور ظاہری حالات بھی کسی کے حق میں نہیں جوفیصلہ کرنے میں معاون ہوں ،نہ کسی کے پاس دلیل و شہادت ہے تو دونوں اس بات پر قسم اٹھائیں گے کہ دوسرے کا اس میں کوئی حق نہیں، تب وہ شے دونوں میں برابر تقسیم کر دی جائے گی کیونکہ دعوے میں دونوں برابر ہیں ،نیز کسی کو دوسرے پر ترجیح دینے کے لیے قرینہ بھی نہیں ،البتہ اگر ظاہری قرائن و شواہد کسی کے حق