کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 510
حصص کی برابر تقسیم کے لیے ضروری ہے کہ ان کے برابر اجزاء بنا لیے جائیں بشرطیکہ ایسا کرنا ممکن ہو، مثلاً:ایک جنس کی ناپ یا وزن والی شے ہو۔ اگر اس شے کے برابر اجزاء نہ بن سکیں تو مکمل شے کی جو قیمت ہو اسے حصص کے مطابق تقسیم کر دیا جائے ،مثلاً:اس انداز سے کہ ادنی درجے کی چیز کا حصہ بڑا بنایا جائے اور اعلیٰ چیز کا حصہ چھوٹا کہ دونوں حصوں کی قیمت برابر ہو۔ اگر یہ دونوں طریقے ممکن نہ ہوں تو اعلیٰ چیز لینے والا ادنی چیز لینے والے کو اتنی رقم ادا کرے جس قدر اس کو حاصل ہونے والی چیز کی قیمت اس کے اصل حصے سے زیادہ ہے۔ جب شرکاء تقسیم یا قرعے پر رضا مند ہو جائیں تب تقسیم ضروری ہے تقسیم کرنے والا حاکم کے قائم مقام ہو گا۔ اگر قرعہ ہوتو وہ حاکم کے حکم کا درجہ رکھتا ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔جہاں تک قرعے کا تعلق ہے تو وہ کنکریوں کے ساتھ کریں یا کاغذ پر نام لکھ کر ہر صورت جائز ہے۔ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ہر کاغذ کے ٹکڑے پر ایک شراکت دار کانام لکھ قرعہ ڈالا جائے اور یوں ہر ایک کا حصہ معلوم کر لیا جائے۔ اگر ایک شریک دوسرے کو اختیار دے دے تو باہمی رضامندی سے شے کی تقسیم ہوگی، خواہ شرکاء ایک جگہ جمع نہ بھی ہوں۔ اگر دوآدمیوں نے مشترک شے باہمی رضامندی سے تقسیم کر لی اور پھر اپنی رضامندی پر گواہ بھی مقرر کر لیے تو اس کے بعد کسی نے تقسیم کے غلط ہونے کا اعتراض یا دعوی کیا تو اس کا دعوی قابل التفات نہ ہوگا کیونکہ جس صورت سے شے تقسیم ہوئی ہر ایک اس پر رضامندی کا اظہار کر چکا ہے(بلکہ اس پر گواہ بھی مقرر کر چکا ہے،) لہذا اگر اس نے معاہدہ ٔتقسیم میں شریک ساتھی کو کچھ زیادہ شے دینے کا وعدہ کیا ہے تو وہ حصہ اسے دینا ہو گا۔(کیونکہ یہ اس کا حق ہے۔) اگر کسی نے دعوی کیا کہ حاکم کے مقرر کردہ شخص نے یا جس کو دونوں شریکوں نے تقسیم کے لیے مقرر کیا تھا اس نے تقسیم میں غلطی کی ہے تو اس کا دعوی دلیل کے ساتھ قبول کیا جائے گا وگرنہ دعوے کا انکار کرنے والا فریق قسم اٹھائے گا کیونکہ غلطی کا نہ ہونا ہی بنیادی بات ہے۔ اگر مدعی تقسیم کے غلط ہونے کی دلیل پیش کردے تو دلیل قبول کرتے ہوئے سابقہ تقسیم ختم کر دی جائے کیونکہ اس کی خاموشی کی بنیاد تقسیم کرنے والے کے ظاہری حال پر تھی۔جب دلیل سے ظاہر ہو گیا کہ اس سے غلطی ہوئی ہے تو اسے اپنی غلطی کی اصلاح کا حق حاصل ہے۔ دوشریکوں میں سے ہر ایک نے ایک شے کی ملکیت کا دعوی کیا اور دونوں نے اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے قسمیں اٹھالیں تو تقسیم ختم ہو جائے گی کیونکہ مذکورہ چیز ان دونوں کے سوا کسی کی ملکیت نہیں،نہ ان میں ترجیح