کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 51
ہے ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ دونوں بزرگ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ آسمانی آفت کے سبب پھلوں کا نقصان اگر بیع کی جائز صورت میں درخت پر لگا ہوا پھل فروخت کر دیا گیا ،پھر مشتری کے اتار لینے سے پہلے کسی آسمانی آفت نے جس میں کسی انسان کا عمل دخل نہیں ہوتا ،اسے ضائع کر دیا، مثلاً :آندھی ،شدید گرمی، خشک سالی ، کثرت بارش ، شدید سردی یا ٹڈی دل کا حملہ وغیرہ ،جس نے اس قدر پھل ضائع کر دیا کہ مشتری کچھ حاصل نہ کر سکا تو مشتری بائع کے پاس جا کر اپنی قیمت کی واپسی کا مطالبہ کرے گا کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الجَوَائِحِ" ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانی آفت کے سبب نقصان معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘  اس روایت سے واضح ہوا کہ ضائع ہونے والا پھل بائع کی ملکیت میں ہے، لہٰذا اس کی قیمت مشتری کے ذمے نہیں ۔ اگر سارا پھل تلف ہو تو مشتری سے لی گئی پوری قیمت واپس کی جائے اور اگر کچھ پھل تلف ہوا ہو تو جس قدر تلف ہوا مشتری اتنی رقم بائع سے واپس لے کیونکہ حدیث نبوی میں عموم ہے، نیز اس عموم کا تقاضا ہے کہ پھل کی درستی ظاہر ہونے کے بعد بیع ہوئی ہو یا اس سے پہلے دونوں صورتوں کا حکم ایک ہی ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ" " تم اپنے بھائی کا مال نا حق کیوں لیتے ہو؟ اگر معمولی نقصان ہو تو وہ بائع کی بجائے مشتری کے ذمے ہو گا کیونکہ ایسا عموماً ہوتا رہتا ہے جس سے بچنا ممکن نہیں۔ اسے عرف میں آفت بھی نہیں کہا جاتا، مثلاً:پرندوں کا پھل کھا جانا یا اس کا زمین پر گرجانا وغیرہ ۔ بعض علماء نے معمولی نقصان کی حد"تہائی سے کم ہونا" مقرر کی ہے لیکن مناسب اور صحیح یہی ہے کہ اس کے بارے میں کوئی حد مقرر نہیں بلکہ اس کا اعتبار عرف پر ہو گا جبکہ تحدید کے لیے دلیل کی ضرورت ہے جو وارد نہیں۔ کسی آسمانی آفت میں پھل کے نقصان کی ذمے داری جو بائع پر ہے بعض علماء کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل پر مشتری کا قبضہ ناقص ہے۔ یہ ایسے ہے گویا اس کا قبضہ ہوا ہی نہیں، اس لیے وہ