کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 503
جب مدعا علیہ قسم اٹھائے گا تو قاضی اس کے حق میں فیصلہ صادر کردے گا۔اگر فیصلہ صادر ہوجانے کے بعدمدعی اپنے دعوی کی سچائی پر گواہ ڈھونڈلایا تو اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ اگرمدعی نے پہلے یہ کہا تھا کہ میرے پاس گواہ نہیں تو اب اس کا گواہ قابل قبول نہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے پہلے بیان میں جھوٹا ثابت ہوگیا۔اور اگر اس نے پہلے ایسا نہیں کہا تھا تو اس کی گواہی قابل سماعت ہوگی اور مضبوط ہونے کی صورت میں قاضی اپنے سابقہ فیصلے میں نظر ثانی کر کے اس کے حق میں فیصلہ دے گا۔ مدعا علیہ کے قسم اٹھانے سے مدعی کا حق ختم نہیں ہو جاتا کیونکہ قسم لینے سے دعوی غلط ثابت نہیں ہو گا۔ یہ قسم صرف جھگڑا ختم کرنے کے لیے ہے اس سے حقدار کا حق ختم نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح اگر مدعی نے کہا:میں نہیں جانتا کہ میراکوئی گواہ ہے۔ بعد میں اسے گواہ مل گیا تو گواہی سنی جائے گی اور اس کی روشنی میں فیصلہ دیا جائےگا۔کیونکہ اس صورت میں وہ اپنے پہلے بیان سے منحرف نہیں ہوا۔واللہ اعلم۔ صحت دعوی کی شرائط کسی دعوی کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ وہ واضح اور متعین ہو، مثلاً: اگر وہ میت پر قرض سے متعلق ہوتو دعوے میں موت کا ذکر کیا جائے۔ قرض کی نوعیت اور مقدار کی تفصیل بیان کی جائے اور وہ تمام معلومات دی جائیں جن سے دعوے کی صورت حال واضح ہو کیونکہ قاضی کے فیصلے کا دارومدار اسی تحریر پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "وَأَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ" "میں تمہارے درمیان ان بیانات پر فیصلہ دوں گا جو سنوں گا۔" یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ دعوی کو واضح صورت میں پیش کرنا لازمی ہے۔ تاکہ قاضی کے سامنے حقیقت حال اچھی طرح واضح ہو جائے۔ صحت دعوی کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز سے متعلق ہو وہ شے معلوم اور متعین ہو مجہول شے نہ ہوتا کہ جب دعوی ثابت ہو جائے تو اس شے کو لازم کیا جاسکے، البتہ بعض مواقع پر مجہول شے کا دعوی درست تسلیم ہو گا، مثلاً: