کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 502
بنالے جو متواتر اور مشہور و معروف ہوں جس میں قاضی کے ساتھ اور لوگ بھی شریک ہیں کیونکہ یہ بھی ایسے واضح شواہد اور قرائن ہیں کہ قاضی پر کسی قسم کی تہمت نہیں لگ سکتی اور اس کی بنیاد پر فیصلہ دلیل کے ساتھ فیصلہ ہے۔" اگر مدعی نے کہا: میرے پاس کوئی گواہ نہیں ہے تو قاضی اسے بتائے کہ فریق ثانی (مدعا علیہ)کے ذمے قسم ہے، چنانچہ صحیح مسلم میں روایت ہے: "جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ»" ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر آئے ایک حضرمی تھا ،دوسرا کندی ،حضرمی نے کہا:"اے اللہ کے رسول! میری زمین پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے جو کہ میرے باپ کی تھی۔ کندی نے کہا:" وہ زمین میری ہے اور میرےقبضے میں ہے ،میں اس پر کاشت کرتا ہوں۔ اس کا اس میں کوئی حق نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی کو کہا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تیرے لیے کندی کی قسم ہے، یعنی کندی قسم اٹھائے گا۔‘‘ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :"اس روایت سے یہ قاعدہ و ضابطہ نکلتا ہے کہ قسم اٹھانے کی ذمے داری مدعا علیہ پر ہے بشرطیکہ مدعی اپنے دعوے کے حق میں کوئی مضبوط دلیل پیش نہ کر سکے۔" جب مدعی فریق مخالف (مدعا علیہ)سے قسم کا مطالبہ کرے تو قاضی کو چاہیے کہ اس سے قسم لے۔ جب وہ قسم اٹھائے گا تو قاضی اس کے حق میں فیصلہ جاری کرے گا اور اسے جانے دے گا ،البتہ مدعا علیہ کی قسم کو درست تب تسلیم کیا جائے گا جب اس کی قسم صاف اور واضح الفاظ کے ساتھ ہوگی اور مدعی کے مطالبے پر ہوگی کیونکہ جس چیز سے متعلق قسم اٹھانی ہے اس سے مدعی کا حق متعلق ہے، لہذا اس کے مطالبے کے بغیر قسم درست نہ ہوگی۔ اگر مدعا علیہ قسم اٹھانے سے انکار کردے تو اس بنیاد پر اس کے خلاف فیصلہ دیا جائے گا کیونکہ مدعا علیہ کا قسم سے انکار مدعی کے سچا ہونے کی دلیل ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے۔ ان میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔ ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ جب مدعا علیہ قسم اٹھانے سے انکار کردے گا تو مدعی کو قسم اٹھانا ہو گی۔