کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 501
"کیا آپ نے ان کی طرف نظر نہیں ڈالی جنھوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے ناشکری کی اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لااتارا، یعنی دوزخ میں جس میں یہ سب جائیں گے جو بدترین ٹھکانا ہے۔" فیصلہ کرنے کے طریقے کا بیان جب قاضی کی عدالت میں دونوں فریق حاضر ہوں تو وہ انھیں اپنے سامنے بٹھائے اور پوچھے کہ تم میں سے مدعی کون ہے؟ یا قاضی انتظار کرے حتی کہ مدعی خود ہی گفتگو شروع کردے۔ جب ایک شخص دعوی کرے تو قاضی غور سے اس کا دعوی سنے۔جب مدعی درست طریقے سے اپنا دعوی پیش کر لے تو قاضی کو چاہیے کہ مدعاعلیہ سے سوال کرے کہ اس دعوی کے بارے میں تمہارا کیا موقف ہے؟ اگر مدعا علیہ دعوی کو سچ اور درست تسلیم کرے تو قاضی کو چاہیے کہ وہ دعوے کی سچائی کی بنیاد پر مدعی کے حق میں فیصلہ دے دے ۔ اگر مدعا علیہ دعوے کے درست ہونے کا انکار کردے تو قاضی مدعی سے گواہ طلب کرے تاکہ مدعی اپنے دعوے کو سچ ثابت کر سکے اور قاضی اس گواہی کی روشنی میں فیصلہ کر سکے۔ اگر مدعی گواہی پیش کر دے تو قاضی اس کی گواہی سنے۔ اگر گواہی قابل قبول ہو تو مدعی کے حق میں فیصلہ دے دے۔ قاضی محض اپنے علم اور ذاتی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ نہ دے کیونکہ اس سے اس پر جانبداری برتنے کی تہمت لگنے کا اندیشہ ہے۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ غلط فیصلے دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے کہ قاضی غلط فیصلہ دے کر کہے گا:میں نے اپنی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے۔" آگے چل کر امام موصوف فرماتے ہیں:"سیدنا ابو بکر ،عمر ،عبدالرحمٰن بن عوف اور معاویہ رضی اللہ عنہم ایسا کرنے سے منع کرتے تھے۔ صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی ان کے اس فیصلے کا مخالف نہیں تھا۔ قاضیوں کے سردار سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منافقین کے بارے میں علم یقنیی رکھتے تھے کہ ان کا خون اور مال مباح ہے لیکن ان کے معاملات میں اپنے علم کے ساتھ فیصلہ نہ کرتے تھے بلکہ دلائل اور شہادتوں کو بنیاد بناتے تھے ،حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے بندوں کے ہاں ہر قسم کی تہمت بلکہ شک و شبہے سے بالاتر تھی۔" امام موصوف مزید لکھتے ہیں :"البتہ قاضی کے لیے جائز ہے کہ وہ فیصلہ دیتے وقت ان معلومات اور اخبار کو بنیاد