کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 490
"مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللّٰهَ فَلْيُطِعْهُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ" ’’جس نے نذر مانی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا تو وہ اطاعت کرے اور جس نے نذرمانی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کرے گا تو وہ اس کی نا فرمانی نہ کرے۔‘‘ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے کام کو اپنےآپ پر لازم کرنے کی صرف چار صورتیں ہیں: 1۔ کسی کام کا التزام صرف قسم سے کرے۔2۔کوئی شخص کام التزام نذر ماننے سے کرے۔3۔ قسم سے لازم کرے۔ نذر سے اسے مؤکد بنائے۔ 4۔ نذر سے لازم اور قسم سے اسے مزید پختہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ" ’’ان میں وہ بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے مال دے گا تو ہم ضرور صدقہ و خیرات کریں گے اور پکی طرح نیکو کاروں میں ہو جائیں گے۔‘‘ ایسے شخص کو چاہیے کہ اپنا عہد پورا کرے ورنہ وہ اس وعید کا مستحق ہوگا۔ "فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ " "چنانچہ اس کی سزا میں اللہ نے ان کے دلوں میں اتفاق ڈال دیا۔" فقہائے کرام نے نذر کے انعقاد کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ نذر ماننے والا عاقل، بالغ اور مختار ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ , وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ , وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ " "تین اشخاص مرفوع القلم ہیں: سویا ہوا حتی کہ بیدار ہو جائے چھوٹا بچہ حتی کہ بالغ ہو جائے اور مجنون حتی کہ عقل مند ہو جائے۔" اگر کافر شخص نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی نذر مانی ہو تو درست ہو گی لیکن اس کو پورا کرنا تب لازم ہو گا جب وہ مسلمان ہوگا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے عہد جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ بیت اللہ میں ایک رات