کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 487
اگر ایک مسلمان دوسرے پر قسم ڈال کر کوئی کام کرنے کو کہے تو اسے پورا کرنا مسلمان کا مسلمان پر حق ہے، چنانچہ براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ ۔۔۔۔۔۔۔ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ المَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ العَاطِسِ، ، وَإِبْرَارِ المُقْسِمِ، ۔۔۔۔۔۔۔ وَنَصْرِ المَظْلُومِ وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي " ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا۔۔۔۔ مریض کی بیمار پرسی کرنے، جنازے میں شریک ہونے، چھینک مارنے والے کا جواب دینے، کوئی کسی کام کے کرنے پر قسم اٹھائے تو اس سے تعاون کرنا تاکہ اس کی قسم پوری ہو، مظلوم کی مدد کرنے، سلام کو عام کرنے اور دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کا۔‘‘ اگر کسی نے ایک ہی کام کرنے پر کفارہ ادا کرنے سے پہلے متعدد قسمیں اٹھائی ہوں تو وہ ایک ہی قسم شمار ہوگی اور ان کا کفارہ بھی ایک ہی ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی نے متعدد اشیاء پر ایک ہی قسم اٹھائی، مثلاً:اس نے کہا: اللہ کی قسم میں نہ کچھ کھاؤں گا نہ پیوں گا اور نہ لباس پہنوں گا، پھر اس نے کوئی ایک کام کر لیا ،مثلاً: کچھ پی لیا تو اس پر ایک ہی کفار ہوگا اور وہ باقی چیزوں کی قسم سے آزاد ہو جائے گا کیونکہ یہ ایک ہی قسم تھی جو ختم ہو گئی۔ اگر کسی نے متعدد کاموں پر متعدد قسمیں اٹھائیں، پھر توڑ دیں تو اس پر ہر قسم کا الگ الگ کفارہ ہو گا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’جس نے کفارہ ادا کرنے سے قبل کئی قسمیں اٹھائیں تو اس کے بارے میں کئی روایات منقول ہیں۔ ان میں سے صحیح بات ہے اگر کسی ایک کام کرنے پر قسم اٹھائی ہو تو ایک ہی کفارہ ادا کرنا ہو گا ورنہ جتنی قسمیں اٹھائے گا کفارے بھی اسی حساب سے ادا کرے گا۔‘‘ اگر کسی نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں کام نہیں کرے گا ،پھر اس نے بھول کر یا کسی کے مجبور کرنے پر وہ کام کر لیا یا اسے معلوم نہ ہوا کہ یہ کام بھی اس قسم میں شامل ہے تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی اور اس پر کفارہ واجب نہ ہوگا اور جو کام زبردستی کرایا جائے وہ کرنے والے کی طرف منسوب نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا " "اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا۔"