کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 481
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"غیر اللہ کی قسم اٹھانا شرک (حرام)ہے۔ سیدناابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے نام کی جھوٹی قسم اٹھالوں تو یہ غیر اللہ کے نام کی سچی قسم سے بہتر ہے۔" شیخ موصوف فرماتے ہیں:"سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے کلام کا یہ مطلب ہے کہ توحید کی نیکی سچ بولنے کی نیکی سے بڑھ کر ہے جیسا کہ جھوٹ بولنے کا گناہ شرک کے گناہ سے نہایت کم ہے۔" جو شخص اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر توڑدے تو اس پر کفارہ دینا لازم آجا تا ہے بشرطیکہ اس میں درج ذیل تین شرائط موجود ہوں: 1۔ قسم کا انعقاد ہو ،یعنی آدمی ایسے کام پر ارادے کے ساتھ قسم اٹھائے جس کا تعلق مستقبل کے ساتھ ہو، نیز وہ ممکن بھی ہو۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَيْمَانَ" "اللہ تمہاری لغوقسموں پر تم سے مؤاخذ ہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذ ہ ان قسموں پر فرماتا ہے جو تم نےمضبوط باندھ لیں۔" قسم کا انعقاد تبھی ہوتا ہے جب کام کا تعلق زمانہ مستقبل کے ساتھ ہونہ کہ زمانہ ماضی سے کیونکہ زمانہ ماضی سے تعلق رکھنے والے کام میں قسم پوری کرنا یا تو ڑنا ممکن نہیں۔ البتہ اگر کسی نے جان بوجھ کر زمانہ ماضی کے کسی کام پر جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ "یمین غموس" ہے۔ واضح رہے غموس کے معنی "غوطہ لگانے"کے ہیں کیونکہ ایسا شخص گناہ (کے سمندر) میں اور پھر جہنم میں غوطہ لگاتا ہے۔ اس قسم میں کفارہ نہیں ہے کیونکہ یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ کفارے سے معاف نہیں ہوتا،نیز یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اگر نیت کیے بغیر قسم کے الفاظ زبان پر آگئے ،مثلاً:کسی کا تکیہ کلام ہو"ہاں! اللہ کی قسم۔" نہیں! اللہ کی قسم "وغیرہ چونکہ اس میں نیت شامل ہوتی ۔ اس لیے یہ لغو قسم ہے اس میں کفارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَيْمَانَ" " اللہ تمہاری لغوقسموں پر تم سے مؤاخذ ہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذ ہ ان قسموں پر فرماتا ہے جو تم نےمضبوط باندھ لیں ۔" سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لغو قسم کے بارے میں فرمایا: