کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 478
اس کی یہ حُرمت اللہ کے حرمت عطا کرنے کی وجہ سے ہے جو قیامت تک رہےگی۔۔۔نہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں ،نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے۔۔۔اور نہ اس کی گھاس کاٹی جائے۔" (6)۔بلاوجہ کتا رکھنا حرام ہے الا یہ کہ جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی ہواور وہ تین امور ہیں: (1)۔شکار کے لیے ہو۔(2)۔جانوروں کی نگرانی کے لیے ہو۔(3)۔یاکھیتوں کی حفاظت کی خاطر ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ہے: "مَنِ اتَّخَذَ كَلْباً إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أوْ صَيْدٍ أوْ زَرْعٍ انْتُقِصَ مِنْ أجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" "جس شخص نے ریوڑ ،شکار اور کھیت کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے کتا رکھا اس کا اجر روزانہ ایک قیراط کم ہوگا۔" بعض لوگ اس وعید کی پرواہ نہیں کرتے اور مذکورہ تین اغراض کے بغیر ہی محض فخر اور کفار کی تقلید کی خاطر کتے رکھتے اور پالتے ہیں۔اس بات کا قطعاًکوئی خیال نہیں ہوتا کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ان کا اجردن بدن کم ہورہاہے،حالانکہ اگر اسے دنیا کے مال میں سے کوئی معمولی سانقصان ہو تو اسے برداشت نہیں کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے: " لَا تَدْخُلُ الْمَلائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلا صُورَةٌ " "فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔" ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ا پنے رب سے ڈرے اور گناہ کا ارتکاب کرکے خود پر ظلم نہ کرے اورخود کوایسے کام سے بچائے جو اجر کی کمی کاباعث ہے۔واللہ المستعان۔