کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 475
"إذَا أَرْسَلْت كَلْبَك الْمُعَلَّمَ، وَذَكَرْت اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ؛ فَكُلْ" "اگر تم"بسم اللہ" پڑھ کر اپنا تربیت یافتہ کتا شکار پرچھوڑوتو اس کا کیا ہوا شکار کھالو۔" (2)۔جب شکاری کے پاس کتے وغیرہ کے ذریعے سے شکار پہنچتا ہے تو اس کی دو حالتیں ہوسکتی ہیں: 1۔جب شکار ہاتھ میں آیا تو وہ صحیح سلامت اور زندہ تھا۔اسےشرعی طریقے سے ذبح کیاجائے گا۔محض شکار کرنا کافی نہ ہوگا۔ 2۔اگر شکار کرنے سے جانور مرگیا یا اس میں زندگی کی معمولی سی علامات باقی موجودہوں تو ایسی صورت میں وہ حلال ہوگا بشرطیکہ اس میں درج ذیل شرائط ہوں: (3)۔شکار کرنے والا شخص ذبح کرنے کا اہل ہو کیونکہ شکار کرنے والا ذبح کرنے والے شخص کے حکم میں ہوتا ہے۔اس لیے اس میں اہلیت کا ہونا ضروری ہے، یعنی وہ عاقل،مسلمان یا اہل کتاب میں سے ہو،لہذا مجنون اور نشہ میں غرق آدمی کا شکار جائز نہ ہوگا کیونکہ ان میں عقل نہیں،جیسا کہ ان کاذبح حلال نہیں۔ (4)۔آلہ کا ہونا،آلہ دو قسم کا ہوسکتا ہے:تیز دھار ہو جو خون بہادے جس طرح کہ ذبح کرنے کے لیے یہ شرط ہے،البتہ ہڈی اور ناخن نہ ہو۔شکار کرنے کا آلہ شکارکو چوڑائی کی جانب سےلگنے کے بجائے دھار یا نوک والی جانب سے لگے اور شکار کو زخمی کردے۔اگر شکار کے لیے آلہ نوک یادھار والا نہیں ہے۔ مثلاً:پتھر،لاٹھی،جال،لوہے کاٹکڑا وغیرہ ہوتو شکار کے مرجانے کی صورت میں حلال نہ ہوگا،البتہ بندوق سے چھوڑی ہوئی گولی کے ذریعے سے شکار جائز ہے کیونکہ اس کے لگنے میں اس قدر قوت اور تیزی ہوتی ہے کہ وہ جانور کوتیز دھار آلے سے بڑھ کر پھاڑ دیتی ہے اور خون بہا دیتی ہے۔ شکار کرنے والے جانور یا پرندے،جن کے ذریعے سے شکار کیا جاتاہے اور انھیں شکار کرنے کی باقاعدہ تربیت دی گئی ہوتوان کا پکڑا ہوا شکار حلال ہے اگرچہ وہ مربھی جائے ۔خواہ وہ جانور کچلی سےشکار کرنے والا ہو ،جیسے کتا یا پنجے سے شکار کرنے والا ہو،جیسے باز۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: " وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ " "اور ان شکاری جانوروں کاکیاہوا شکار(حلال ہے ) جنہیں تم سدھا لیتےہ و۔ اور اللہ نےتمہیں جوسکھایا