کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 473
وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ " "تم پر حرام کیا گیا ہےمردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن جسے تم ذبح کر ڈالو( تو حرام نہیں ۔)"  4۔ذبح کرنے والا بوقت ذبح بسم اللہ پڑھے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ " "اورتم ایسے جانوروں کا گوشت مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیاگیا ہو کیونکہ یہ(کھانا) یقیناً نافرمانی ہے۔" امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نام ذبیحے کو طیب بنادیتا ہے،ذبح کرنے والے اور ذبیحہ دونوں کے درمیان سےشیطان کو دور کردیتاہے ورنہ ذبح کرنے والے اورذبیحہ کے درمیان شیطان کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔وہ حیوان میں خبث کے اثرات ڈالتا ہے۔اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جانور کو ذبح کرتے تو ساتھ بسم اللہ بھی پڑھتے۔آیت سے ثابت ہوتاہے کہ اگر جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھی گئی تو وہ حلال نہیں،اگرچہ ذبح کرنے والا مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ (3)۔تسمیہ کے ساتھ تکبیر"اللہ اکبر" کہنا بھی مسنون ہے۔ ذبح کرنے کے درج ذیل آداب ہیں: 1۔کند آلے سے ذبح کرنا مکروہ ہے بلکہ وہ نہایت تیز ہوتا کہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے: "وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ" "تم میں ہر ایک کو چاہیے کہ(جانور کو ذبح کرتے وقت) چھری تیز رکھے اور ذبیحے کو تکلیف نہ دے۔" 2۔ذبح کرنے کا آلہ چھری وغیرہ جانور کی آنکھوں کے سامنے تیز کرنا مکروہ ہے کیونکہ حدیث میں ہے: