کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 472
لہذا دونوں سے ذبح کرناجائز نہیں ہے۔ 3۔حلق اور شہ رگ کا کاٹنا،یعنی جانور کےحلق کی رگوں کو کاٹ دینے سے ذبح کاحکم مکمل ہوجاتاہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" کھانے کی نالی،حلق اور دونوں رگ جان کاٹی جائیں،چاراشیاءمیں سے تین کاٹنے سے بھی جانورحلال ہوگا،ان تین اشیاء میں حلق شامل ہو یا نہ ہو،حلق کے سوا رگ جان کا کاٹنا زیادہ بہترہےاور اس سے خون زیادہ اچھی طرح بہہ جاتا ہے۔" اونٹ میں مسنون طریقہ"نحر" ہے کہ اس کی گردن اور سینے کے درمیان تیز دھار نیزہ یا برچھی ماری جائے جبکہ دوسرے جانوروں کو ذبح کرنا ہی صحیح ہے۔جانوروں کو ذبح کرنے کے لیے مذکورہ مقام کا تعین اس وجہ سے ہے کہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں جسم کی تمام رگیں جمع ہوتی ہیں،ان کے کٹ جانے سے تمام جسم کاخون جلدی اور آسانی سے نکل آتاہے۔جانور کو جان نکلتے وقت زیادہ تکلیف بھی نہیں ہوتی،لہذا اس کاسارا گوشت بہتر اور عمدہ ہوجاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: " وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ " "جب جانور کو ذبح کرو تو اچھا طریقہ اختیار کرو۔" اگر مذکورہ مقام سے ذبح کرنا ممکن نہ ہوسکے،مثلاً:شکار ہو یا اونٹ ہاتھوں سے نکل گیا ہو یاکوئی جانور کنویں میں گرگیا تو اس کے بدن کے کسی بھی حصے پرزخم لگا کر خون بہادیا جائے تو وہ ذبیحہ شمار ہوگا جس کا کھانا حلال ہے۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ اونٹ بھاگ گیا۔ایک آدمی نے اسے تیر مار کر زخمی کردیا جس سے وہ رک گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا" "جو جانور بھی تم پر غالب آجائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔" ایسی ہی روایت حضرت علی ،ابن مسعود ،ابن عمر ،ابن عباس ،اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہے۔ کسی جانور کا گلا گھونٹ دیا جائے یا اسے لاٹھی ماری جائے یا بلندی سے گرجائے یا کسی دوسرے جانور نےاسے ٹکرماردی ہو یا اس کے بدن کاایک حصہ درندہ کاٹ کر کھا گیا ہو اگر وہ زندہ ہونے کی حالت میں پالیا گیااور اسے ذبح کیا گیا تو حلال ہے ورنہ حرام ہے۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ