کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 471
ہیں اور قبروں پر نذر ونیاز اورچڑھا وے چڑھاتے ہیں،ان کاذبح کیا ہوا جانور بھی حلال نہیں کیونکہ یہ لوگ شرک کے مرتکب ہیں جو قبرپرست مشرک امت محمدیہ میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھی اہل کتاب کے حکم میں ہیں،لہذا ان کاذبیحہ حلال ہے۔(ع۔و)لیکن کتابی کافر،یعنی یہودی یانصرانی کا ذبیحہ حلال ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ" "اوراہل کتاب کا کھانا(ذبیحہ) تمہارے لیے حلال ہے۔" اس پر اہل اسلام کااجماع ہے ۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:(طَعَامُهم)سے مراد ان کے"ذبیحے" ہیں۔ آیت کریمہ سے یہ مفہوم بھی نکلتاہے کہ غیر کتابی کافر کا ذبیحہ حلال نہیں ہے،اس مسئلے پر اجماع ہے۔ کتابی کافر کا ذبیحہ حلال اور دیگر کفار کا ذبیحہ حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کاعقیدہ ہے کہ غیر اللہ کے نام کاذبیحہ حرام ہے،نیز وہ مردار کو بھی حرام سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے انبیائے کرام کی یہ تعلیم تھی دیگر کفار بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہیں اورمردار کو بھی حلال قراردیتے ہیں۔ 2۔کارآمد آلے کا ہونا۔ذبح ہر اس آلے سے درست ہے جس کے دھار سے خون بہہ جائے،خواہ وہ لوہے کا ہو یا پتھر یا کسی اوردھات سے بنا ہو ما سوائے دانت اور ناخن کے کہ ان سے ذبح کرنا جائز نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ" "جو شے جانور کاخون بہادے اور اس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہوتو وہ(ذبح شدہ جانور) کھالو،البتہ وہ شےدانت اورناخن نہ ہو۔" امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" ہڈی سے ذبح کرنا،اس لیے ممنوع ہے کہ یاتو وہ نجس ہے یا ذبح کرنے سے مومن جنوں کے لیے نجس ہوجاتی ہے۔" مکمل حدیث اس طرح ہے: "أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ. وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ" "(میں تمھیں ان دونوں سے متعلق بیان کرتا ہوں) دانت تو ہڈی ہے اور ناخن(کافر) حبشیوں کی چھری ہے۔"