کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 464
"أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع کیاہے۔" البتہ لگڑ بھگڑ کا گوشت کھانا جائز ہے،چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سےروایت ہے: "أمرنا رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم بِأَكْلِ الضَّبُعِ " "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لگڑ بھگڑ کھانے کی رخصت دی ہے۔" علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جواز کو دلائل سےثابت کیا ہے،چنانچہ وہ فرماتے ہیں:"جودرندہ دو اوصاف کاحامل ہووہ حرام ہے ،یعنی اس کی کچلی ہو اور وہ حملہ آوردرندوں میں شمار ہوتا ہو،جیسے شیر،بھیڑیا ،تیندوااورچیتا وغیرہ،لگڑ بھگڑ میں تو صرف ایک وصف اس کی کچلی کا ہوناہے اس کا شمار تو حملہ آور درندوں میں ہوتا ہی نہیں۔درندے کے حرام ہونے کی وجہ اس میں درندگی کی ایسی قوت کا ہونا ہے جو اسے کھانے والے کی طبیعت پراثر انداز ہوتی ہے،جس قسم کی خوراک کوئی کھائے گا ویسا ہی وہ اثر قبول کرے گا۔درندگی کی جوتاثیر وقوت شیر ،بھیڑیے ،تیندوے اور چیتے میں ہوتی ہے وہ لگڑبھگڑ میں نہیں پائی جاتی کہ جس کی وجہ سے دونوں قسم کے جانوروں میں برابری پائی جاتی ہو۔لگڑ بھگڑ کو نہ لغت میں درندہ کہاگیا ہے نہ عرف میں۔" 3۔ پرندے مباح ہیں مگر ایسے پرندے حرام ہیں جو پنجوں کے ساتھ شکار کرتے ہیں،مثلاً:عقاب ،باز،شکرا وغیرہ،چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: " نَهَى رَسُول اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والےدرندوں اور پنجے سے پکڑ کر شکار کرنے والے پرندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔" امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" اس مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار تواتر کے ساتھ ملتے ہیں جو سب صحیح ہیں۔اس کے بارے میں حضرت علی ،ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایات معروف ہیں۔"