کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 453
سمجھتا یا اسے ان کے کفر میں شک ہے یا ان کے مذہب کو صحیح اوردرست سمجھے،مثلاً:اس کا عقیدہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے دوسری شریعت بڑھ کرہے یادین اسلام کےکسی حکم ،ثواب یا عقاب سے استہزا کرے یا احکام رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھے یااس کایہ عقیدہ ہو کہ بعض لوگوں کے لیے شریعت محمدی کی اتباع ضروری نہیں بلکہ اس سے خروج جائزہےجیسا کہ غالی قسم کے صوفیاء کا عقیدہ بد ہے۔اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کےدین اسلام کو نہ سیکھتا ہے اور نہ عمل کرتاہے تو یہ سب ارتداد اور نواقض اسلام کے اسباب میں سے ہے۔ شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"ان تمام قسم کے نواقض میں کوئی فرق نہیں،ان کے مرتکب سے ان کا ظہورخواہ مذاق میں ہو یا قصداً یاکسی خوف کی وجہ سے ان کااظہار کرے وہ مرتد اور کافر ہی سمجھا جائےگا سوائے مجبور ومقہور کے۔یہ تمام نواقض انتہائی خطرناک ہیں اورلوگوں سے اکثر ان کا وقوع ہوتارہتاہے۔مسلمان کو چاہیے کہ ان سے بچے اور ان کاخطرہ اپنے لیے محسوس کرے۔ہم اللہ کے غضب کے اسباب اور اس کے دردناک عذاب سے اس کی پناہ مانگتے ہیں۔" یہ نواقض اسلام کے چند ایک نمونے تھے۔آپ کو چاہیے کہ آپ جانیں اور پہچانیں تاکہ ان سے بچ سکیں۔ یادرکھیں!جو شخص شرکیہ امور سے واقفیت نہیں رکھتا،اندیشہ ہےکہ وہ اس کا ارتکاب کر بیٹھے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:" جو شخص امور جاہلیت سے واقف نہیں ممکن ہےکہ وہ عہد اسلام میں پیدا ہونے کے باوجود دین اسلام کی ایک ایک کڑی کوادھیڑ کررکھ دے۔" میرے بھائی! میرا آپ کو مشورہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب"فکر وعقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے" کامطالعہ کیجیے،نیز شیخ مجدد محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب (المسائل التي خالف فيها رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أهل الجاهلية) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کااہل جاہلیت سے اختلاف" اور اس کی شرح کو پڑھیے جسے عراق کے معروف عالم محمود شکری آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے تالیف کیا ہے۔ (4)۔جو شخص دین اسلام سےمرتد ہوجائے اسے تین دن تک توبہ کا موقع دیا جائے گا۔اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک ورنہ قتل کردیاجائےگا کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کی ایک شخص مرتد ہوگیاتھا تو اسے توبہ کاموقع دیے بغیر قتل کردیاگیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا: " أَفَلَا حَبَسْتُمُوهُ ثَلَاثًا، وَأَطْعَمْتُمُوهُ كُلَّ يَوْمٍ رَغِيفًا، وَاسْتَتَبْتُمُوهُ لَعَلَّهُ يَتُوبُ، وَيُرَاجِعُ أَمْرَ اللّٰهِ؟ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: اللّٰهُمَّ إِنِّي لَمْ أَحْضُرْ، وَلَمْ آمُرْ، وَلَمْ أَرْضَ إِذْ بَلَغَنِي "