کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 45
قرآن کریم میں کردی ہے۔اور یہ صرف اس لیے ہے کہ سود کی کمائی ناپاک ،حرام اور نقصان دہ ہوتی ہے اور یہ انسانی معاشرے پر ایک بھاری بوجھ ہے۔ اصول کی بیع کے احکام اصول سے مراد مکانات،زمینیں اور درختوں کی بیع ہے۔ان چیزوں کی خریدوفروخت کے وقت جو اشیاء ان سے ملحق ہوں گی وہ بھی مشتری کو ملیں گی اور جو اشیاء ملحق نہ ہوں گی وہ(بیع کے بعد بھی) بائع کی ملکیت میں رہیں گی۔اس باب میں مشتری اوربائع ہرایک کو یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کا حق کیا ہے اور کیا نہیں تاکہ ان کے مابین کوئی اختلاف اور جھگڑا کھڑا نہ ہو۔ واضح رہے جن امور میں ہمارے لیے کوئی مصلحت یا نقصان ہے ،دین اسلام نے ہمیں ان سے متعلق اندھیرے میں نہیں رکھا بلکہ وضاحت کے ساتھ ان میں ہماری راہنمائی کردی ہے۔جب کوئی قوم اسلامی احکام پر عمل پیرا ہوگی تو ان کے جھگڑے اور اختلافات ختم ہوجائیں گے۔ان احکامات میں سے بیع کے احکام بھی ہیں۔ بسااوقات انسان ایک چیز فروخت کرتا ہے توکچھ اشیاء اس میں شامل نہیں ہوتیں،بائع اور مشتری میں ان متعلقات کے بارے میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔جو لڑائی جھگڑے کا سبب بنتاہے ،لہذا اس کے بارے میں فقہائے کرام"اسلامی فقہ" میں"اصول کی بیع کے مسائل" کے عنوان سے ایک باب مقرر کرتے ہیں جن میں اس اختلاف کا حل پیش کیا جاتا ہے۔ہم یہاں ان مسائل کا خلاصہ آپ کے سامنے رکھیں گے۔ اگر کوئی شخص گھر بیچتاہے تو اس بیع میں دیواریں اور چھت شامل ہےکیونکہ انھی چیزوں کو گھر کہا جاتا ہے۔ گھر میں وہ اشیاء بھی شامل ہیں جن سے گھر کی تکمیل ہوتی ہے،مثلاً: لگے ہوئے دروازے ،سیڑھیاں ،میخوں کے ساتھ لگائی ہوئی شیلفیں ۔اسی طرح گھر کا ضروری سامان،مثلاً:بجلی کی لگی ہوئیں اشیاء، لٹکتے ہوئے فانوس،پانی کی ٹینکی اور پانی پہنچانے والے پائپ،ایگزاسٹ فین،گیزر،گھر میں لگے ہوئے درخت،پودے،سایہ حاصل کرنے کے لیے بنی ہوئی اشیاء وغیرہ۔علاوہ ازیں گھر کی زمین کے نیچے اگر معدنیات جامدہ ہوں تو وہ بھی مشتری کی ملکیت میں آجائیں گی۔ جو اشیاء گھر میں شامل نہیں بلکہ الگ سمجھی جاتی ہیں وہ گھر کی بیع میں شامل نہ ہوں گی،مثلاً:پڑی ہوئی لکڑی،رسیاں،برتن،قالین کارپٹ اورگھر کی جس چیز کو زمین میں حفاظت کی خاطر دفن کیا گیا ہو،مثلاً قیمتی پتھر،خزانہ