کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 440
4۔جس چوری کے نتیجے میں ہاتھ کاٹا جائے گا اس کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ چوری کردہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، مثلاً:چوری کردہ شے کسی گھر میں ،دوکان میں یا کسی محفوظ عمارت کے بند دروازوں کے پیچھے یاتالا لگے ہوئے کمرے کے اندر ہو۔یاد رہے شے کے محفوظ کرنےکے طریقے مختلف علاقوں کے اعتبار سےمختلف ہیں۔اگرمال ایسی جگہ سے اٹھایا گیا جوچار دیواری میں یا کسی محفوظ جگہ میں پڑا ہوا نہ تھا تو اس کی وجہ سےہاتھ نہیں کاٹا جائےگا۔ 5۔اگر کسی کاخیال ہو کہ فلاں مال میں اس کا استحقاق ہے،پھر اسی شبے میں وہ مال اٹھا لے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنْ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ" "جہاں تک ہوسکے مسلمانوں پر شبہات کی بنا پر حدود نافذ نہ کرو۔" لہذا اگر بیٹا باپ کے مال سے کچھ چرا لے یاباپ بیٹے کے مال سے کچھ حصہ خفیہ طور پر لے لےتو کسی کاہاتھ کاٹا نہیں جائے گا کیونکہ ہر ایک کے مال میں دوسرے کا حق موجود ہے۔یہ شبہ حد کوزائل کردیتاہے۔اسی طرح اگر کسی شخص کادوسرے کےمال میں کوئی حق ہے تو اس مال کو بلااجازت اٹھالینے سے چور قرار نہیں پائےگا اور اس کاہاتھ نہ کاٹاجائےگا لیکن یہ فعل ناجائز ضرور ہے جس کی وجہ سے وہ تعزیر کے لائق ہے اور اس سے مال واپس لیا جائےگا۔ 6۔مذکورہ بالاشرائط کے ساتھ ساتھ چوری کے ثبوت کےلیے دو معتبر آدمیوں کی شہادت کا ہونا بھی ضروری ہے جو چوری کی کیفیت اور چوری کردہ مال کی صورت حال اچھی طرح واضح کریں کہ واقعے کی سچائی میں کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے یا پھر مجرم خود ہی چوری کادو مرتبہ اقرار واعتراف کرلے،چنانچہ سنن ابوداودمیں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو پیش کیاگیا جس نےچوری کاایک مرتبہ اعتراف کیا جبکہ چوری شدہ مال اس کےپاس نہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ؟ قَالَ بَلَى. فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ " "میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی۔اس نے کہا:کیوں نہیں!(مجھ سے یہ کام یقیناً سرزد ہوا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یاتین مرتبہ اپنی اسی بات کو دہرایا تو بالآخر آپ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیاگیا۔"