کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 438
" تُقْطَعُ اليَدُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا" "چور کا ہاتھ دینار کے چوتھائی حصے یا اس سے زیادہ چوری کرنے پرکاٹا جائے گا۔" مختصر بات یہ ہے کہ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ چور کاہاتھ وجوبی طور پر کاٹا جائے گا۔ (1)۔چورانسانی معاشرے میں ایک فاسد عنصر ہے۔اگراسے آزاد چھوڑ دیاجائے تو اس کابگاڑ قوم کےجسم میں دھیرے دھیرے سرایت کرتا جائے گا،لہذا مناسب سزا کے ذریعے سے اسے روکنا نہایت ضروری ہے۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کاہاتھ کاٹنا مشروع قراردیاہے ۔یہ ظالم ہاتھ اس چیز کی طرف بڑھا ہے جس کی طرف بڑھنا اس کے لیے جائز نہ تھا۔یہ ہاتھ تخریب کا سبب بناہے،تعمیر کا نہیں اور یہ ہاتھ اشیاء اٹھانے(چوری کرنے) والاہے،کسی کو دینے والا نہیں۔ (2)۔اب ہم قدرے تفصیل سے بتائیں گے کہ چوری کااطلاق کب ہوتا ہے اور اس کے مرتکب کاہاتھ کن صورتوں میں کاٹا جائے گا۔اگر ان میں سے ایک بھی صورت نہ ہوتو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا،وہ صورتیں یہ ہیں: 1۔آدمی نے مال خفیہ طریقے سے اٹھایا ہو۔اگر اس نے اسے خفیہ طریقے سے نہیں اٹھایا تو اسکا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔جیسا کہ کوئی شخص ڈاکہ ڈالے اور کسی کامال زبردستی چھین کر یاسرعام اٹھا کرلے جائے تو یہ چوری نہ ہوگی کیونکہ مال کامالک غاصب کاہاتھ پکڑ سکتاتھا یااس کےخلاف دوسروں سے مدد لے سکتاتھا(ڈاکے کی حد کاتذکرہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔) امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" ہاتھ کاٹنے کا شرعی حکم چور سے متعلق ہے،غاصب یالوٹ مار کرنے والے سے متعلق نہیں کیونکہ چور سے مال بچانا ممکن نہیں،اس لیے کہ وہ گھروں میں نقب زنی کرتا ہے،محفوظ مقام میں ناجائز دخل اندازی کرتاہے اور لگے ہوئے بند تالوں کوتوڑتاہے۔اگر ایسےشخص کاہاتھ نہ کاٹاجائے تو دیگر لوگ بھی ایک دوسرے کامال چوری کرنے لگ جائیں گے ،نقصانات بڑھ جائیں گے اورپریشانیوں میں شدت آجائےگی۔" "الافصاح" کے مصنف نے لکھاہے:"علماء کااتفاق ہے کہ لوٹ مار اورغصب کرنے والوں کاجرم بڑاہونے کے باوجود ان کاہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔"ان لوگوں کو ظلم وزیادتی سے روکنے کےلیے وہ مارے جائیں ،لمبی قید یا عبرت ناک سزا دی جائے۔ 2۔ہاتھ کاٹنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ چوری کردہ مال حرمت والا اور جائز ہو۔اگر وہ جائز مال نہیں تو قابل ِ