کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 436
مطابق کرے گا،البتہ تعزیر کی متعدد صورتیں ہیں،مثلاً:کسی کو مارپیٹ کی سزا دینا یاقید میں ڈالنا ،تھپڑ مارنا،ڈانٹ پلانا یا سرکاری عہدے سے معزول کردینا وغیرہ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" کبھی تعزیر بے عزتی کرنے کی صورت میں بھی ہوتی ہے،مثلاً:کسی جرم کے مرتکب شخص کو کہنا:اے ظالم!یا اے زیادتی کرنے والے !یا اسے مجلس سے اٹھا دینا،یا ڈانٹ ڈپٹ کرنا۔" (5)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " لَا يُجْلَدُ أَحَدٌ فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللّٰهِ" "کسی کو دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارے جائیں الا یہ کہ وہ حدود الٰہی میں سے کوئی حد پامال کرنے والا ہو۔" جن حضرات نےتعزیر کے لیے ان دس کوڑوں سے زیادہ مارنے کی اجازت دی ہے انھوں نے مذکورہ بالادس کوڑوں والی حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ یہاں معصیت کی سزا کا ذکر ہے شرعی حدود کا نہیں اس باب میں محرمات کاارتکاب مراد ہے جس کی سزا مصلحت کے مطابق اور جرم کی مقدار کے پیش نظر ہوگی۔ (6)۔تعزیر میں مجرم کا کوئی عضو کاٹ دینا یا اسے زخم لگانا یا اس کی ڈاڑھی مونڈ دینا جائز نہیں کیونکہ یہ مثلہ ہے جو ممنوع ہے۔اسی طرح تعزیر میں حرام طریقے اختیار کرنا بھی جائز نہیں،مثلاً:شراب پلانا وغیرہ۔ (7)۔جو شخص لوگوں کو مسلسل تکلیف دینے یا ان کے اموال کو نقصان پہنچانے میں شہرت پاچکا ہوتو اسے جیل میں بند کردیا جائے حتیٰ کہ وہیں مرجائے یاتوبہ کرلے۔ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"ایسے مجرم کو لازمی طور پر قید کیا جائے۔اس مسئلے کے بارے میں متعدد علمائے کرام کی یہی رائے ہے،لہذا اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں۔اس میں مسلمانوں کی خیر خواہی ہے کہ ظالم کےظلم سے لوگوں کو بچایاگیا ہے۔" امام موصوف آگے چل کر فرماتے ہیں:"نظام سلطنت کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اسے احتیاط اور دانش مندی سے چلایاجائے۔اس کے لیے ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہےجو شرعی احکام کو نافذ کرنے والے ہوں،ان کی مخالفت کرنے والے نہ ہوں۔جب کسی مملکت میں عدل وانصاف کی علامات ظاہر ہوجائیں توسمجھو وہاں شریعت الٰہی کا اتمام ہوگیا ہے ۔یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ"سیاست عادلہ" شریعت کے ارشادات اور منشا کے منافی ہے بلکہ وہ شریعت