کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 432
(1)۔حشیش،ہیروئن اور دیگر اقسام کی نشہ آور اشیاء کے استعمال سے مسلمانوں کی نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے۔ہمارے دشمن انھیں ایک ہتھیار کے طور پر ہمارے خلاف استعمال کررہے ہیں۔یہود اور ان کے ایجنٹ ان اشیاء کو مسلمانوں میں پھیلانے میں خاص کردار ادا کررہے ہیں تاکہ مسلمان کمزور ہوں،نوجوان نسل برباد ہوجائے اور وہ معاشرے میں تعمیری کام کرنے کے قابل نہ رہیں۔اپنے دین کے لیے جہاد نہ کرسکیں اور اس قدر ناکارہ ہوجائیں کہ وہ قوم اور وطن کے فسادیوں اور دشمنوں سے مقابلہ نہ کرسکیں۔ مقام افسوس ہے کہ کافر دشمنوں کی چالوں سے صورت حال اس قدر گھمبیر ہوچکی ہے کہ نوجوانوں کی بہت بڑی مقدار نشے کی عادی ہوچکی ہے اور وہ معاشرے پر ایک بوجھ ہے یا وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی کے باقی دن کاٹ رہی ہے۔یہ اثرات مسلمان ممالک میں نشہ آوراشیاء کے پھیلنے کی وجہ سے ہیں۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس جیسی تمام اشیاء سے بچائے جو انسان کی تباہی کا موجب ہیں۔لا حول ولا قوۃ الا باللّٰه۔ (2)۔شراب(خمر) ہرحال میں حرام ہے ،اس کا استعمال لذت ،دوا یا پیاس بجھانے کے لیے یا کسی بھی مقصد کے لیے ہو،حرام ہے۔ (3)۔علاج کی خاطر شراب یا نشہ آور اشیاء کا استعمال حرام ہے،اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ" "خمر دوا نہیں بلکہ داء(بیماری) ہے۔" سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے: " إِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حُرِّمَ عَلَيْكُمْ " "اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس شے میں شفا نہیں رکھی جو حرام ہے۔" (4)۔اسی طرح اسے پیاس بجھانے کے لیے بھی استعمال کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے مقصد حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ پیاس کی شدت اور حرارت کو مزید بھڑکاتی ہے۔ (5)۔جب کوئی مسلمان نشہ آور شے"یوڈی کلون" یا"الکحل"ملا مشروب پی لے اور اسے اس کے نشہ آور ہونے کا علم بھی ہوتو اس پر حد قائم کرنا لازم ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ " "جو شخص شراب وغیرہ پیے اسے کوڑے لگاؤ۔"