کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 417
کرے۔ان حدود کا نفاذ ہر امیر ،غریب،طاقت ور اور کمزور پر کرے۔۔۔" (3)۔مسجد کے اندر حدود نہ لگائی جائیں بلکہ اس سے باہر ان کانفاذ ہو،چنانچہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: " نَهَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُودُ " "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے،(ناجائز قسم کے) اشعار پڑھے جائیں اوران میں حدود کا نفاذ ہو۔" (3)۔جب کسی حد کامعاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچ جائے تو اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے سفارش کرنا حرام ہے۔اسی طرح حکمران کے لیے ایسی سفارش قبول کرنا بھی حرام ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللّٰهِ تَعَالَى فَقَدْ ضَادَّ اللّٰهَ" "جس شخص کی سفارش حدود الٰہی کے نفاذ میں رکاوٹ بن گئی وہ اللہ تعالیٰ(کے حکم کی مخالفت کرکے اس) کے مد مقابل کھڑا ہوگیا۔" ایک شخص نے چور کو معاف کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فَهَلاَّ كَانَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " "میرے پاس لانے سے پہلے پہلے تو نے اسے معاف کیوں نہ کردیا؟" شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" کسی شخص کے لائق نہیں کہ وہ سفارش یاہدیہ وغیرہ کی وجہ سے کسی حد کو معطل کرے۔اسی طرح اس میں سفارش کرنا بھی جائز نہیں۔جس نے قدرت کے باوجود حد کو معطل کردیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔" نیز موصوف فرماتے ہیں:" چور،زانی،شرابی اور ڈاکو وغیرہ سے بیت المال وغیرہ کے لیے مال لے کر حد کو معطل کردینا جائز نہیں۔ایسا مال حرام اور خبیث ہوتا ہے۔اگر ایسا کام حاکم کرتا ہے تو وہ متعدد خرابیوں کو جمع کررہا ہے۔ایک حد کو معطل کرنا اور دوسرا حرام کھانا اورتیسرا ذمے داری کو پورا نہ کرنا اورچوتھا حرام کا ارتکاب کرنا۔تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ زانی ،چور،شرابی اور اسلامی حکومت کے باغی وغیرہ کو چھوڑنے کی خاطر لیا ہوا مال حرام اورخبیث ہے۔افسوس ہے کہ یہ تمام کام برملا ہورہے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے امور میں دن بدن بگاڑ پیدا ہورہا ہے