کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 416
حدود کا نفاذ ختم ہوجاتا ہے۔ 2۔ مجرم جرم کے حرام ہونے کا علم رکھتا ہو،چنانچہ جو شخص کسی کام کے حرام ہونے کا علم نہ رکھتا ہو اس پر اس کے ارتکاب کی وجہ سے حد نہ لگائی جائے گی۔سیدنا عمر ،عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کا قول ہے: "لَا حَدَّ إِلَّا عَلَى مَنْ عَلِمَهُ""حد اسی پر نافذ ہوگی جو اس کام کے حرام ہونے کا علم رکھتا ہو۔" صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی اس نقطۂ نظر کا مخالف معلوم نہیں۔اسی لیے امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"یہ قول عام اہل علم کا ہے۔" جب کسی شخص میں دونوں شرطیں موجود ہوں تو جرم کے ارتکاب کے نتیجے میں اس پر حد نافذ ہوگی۔حدود کےنفاذ کا کام مسلمانوں کا امیر یا اس کا نائب سرانجام دے گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود حدود کو نافذ کیاکرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم بھی حدود قائم کرتے تھے۔بسا اوقات اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نائب بھی مقرر کیا تھا جیسا کہ ایک روایت میں ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ ! الَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا" "اے انیس! اس شخص کی بیوی کی طرف جاؤ اگر وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کردینا۔" ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن وہاں خود نہ گئے۔اسی طرح ایک چور کے بارے میں فرمایا:"اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ" "اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو۔" اس کی غالباً وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات حدود کے فیصلے میں اجتہاد کرنا پڑتا ہے ،لہذا کو تاہی کا اندیشہ موجود ہوتا ہے،اس لیے یہ اہم ذمے داری مسلمانوں کے امیر پر ڈال دی گئی یا وہ کسی ایسے معتبر شخص پر ذمے داری ڈال دے جو عدل وانصاف کے تمام تقاضے پورے کرسکے،خواہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق سے متعلق حدود ہوں،مثلاً:زنا یا کسی انسان سے متعلق ہوں ،مثلاً: حد قذف۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"جن حدود اور حقوق کا تعلق کسی معین قوم کے ساتھ نہ ہو وہ حدود اللہ کہلاتی ہیں،جیسے ڈاکو،چور اور زانی وغیرہ سے متعلق حدود۔اسی طرح مملکت کے اموال،وقف اشیاء ،وصیتیں وغیرہ جو معین نہ ہوں،ان حدود کی پاسداری مملکت کے اہم امور میں سے ہے،لہذا حاکم کے ذمے ہے کہ ان کی جانچ پڑتال کرتا رہے اور کسی کے دعوے کے بغیر انھیں قائم کرے اور کسی کے دعوے کے بغیر ہی ان کی گواہی کا انتظام