کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 414
حدود کے احکام "حدود" حد کی جمع ہے جس کے لغوی معنی"روکنے" کے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی حدود سے مراد اس کے حرام کردہ وہ امور ہیں جن کے ارتکاب سے اس نے منع کردیا ہے۔اور شرعی اصطلاح میں حدود ان مقررہ سزاؤں کو کہا جاتا ہے جو خاص امور میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے نتیجے میں دی جاتی ہیں۔ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ ایسا کام نہ کریں۔حدود کی مشروعیت کی دلیل کتاب اللہ ،سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع سے ثابت ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" حدود الٰہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق پر رحمت اور ارادہ ٔ احسان ہے حتیٰ کہ جن لوگوں پر گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں حدود کانفاذ ہو اس کا مقصد ان کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی ہونا چاہیے۔جس طرح باپ اپنے بیٹے کو اس کی اصلاح اور بہتری کی خاطر سزا دیتا ہے یا ڈاکٹر مریض کی بہتری کے لیے انتہائی کڑوی کسیلی دوائیں اس کے حلق سے نیچے اتارتا ہے یا آلات جراحی کے ذریعے سے اس کے جسم کا آپریشن کرتا ہے۔" (1)۔حدود کی مشروعیت میں حکمت انسانی نفوس کو جرائم کے ارتکاب سے روکنا ہے اور انھیں پاک وصاف کرناہے۔حد مقرر سزا کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا حق ہے،نیز اس میں معاشرے کی مصلحت پیش نظر ہے۔اللہ تعالیٰ نے جرائم کے مرتکب افراد کے لیے ایسی سزائیں رکھی ہیں جن کا سلیم طبائع تقاضا کرتی ہیں۔ان کے نفاذ میں بندوں کی دنیوی اور اخروی مصلحتیں مضمر ہیں ۔کسی بھی ملک کا سیاسی نظام تب تک درست نہیں ہوسکتا جب تک جرائم سے روکنے کے لیے مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ دی جائیں۔حدود کے نفاذ سے مجرم باز آجاتا ہے اور قانون کی پابندی کرنے والا مطمئن ہوجاتا ہے۔زمین میں عدل وانصاف کا بول بالاہوتاہے۔لوگوں کی جانیں ،عزتیں اوراموال محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ان خوبیوں کا مشاہدہ ان ممالک اورمعاشروں میں ہوسکتا ہے جہاں حدودالٰہی کانفاذ ہے بلکہ اس کا کوئی کافر شخص بھی انکار نہیں کرسکتا اور جن ممالک یا معاشروں میں شرعی حدود کانفاذ نہیں ہوتا بلکہ وہ اسے وحشی اور ظالمانہ سزائیں تصور کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں ان کی ضرورت بھی نہیں رہی تو وہ ممالک اور