کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 406
فقہائے کرام فرماتے ہیں:اگر زخم میں"حکومہ" مقرر ہوا اور وہ زخم اس جگہ ہو جس کی شریعت میں دیت مقرر ہے،جیسے سرکا وہ زخم جس میں ہڈی ظاہر نہ ہوئی ہوتو اس میں فیصلہ کرتے وقت اس کی دیت ہڈی کے ظاہر ہونے والے زخم کی دیت تک نہ پہنچے کیونکہ ہڈی ظاہر ہونے والے زخم میں دیت پانچ اونٹ ہے۔اور جو زخم اس سے کم ہو اس میں دیت بالاولیٰ کم ہونی چاہیے۔ (3)۔اگر مظلوم جنایت کے بعد باکل تندرست ہوگیا کہ علاج کے بعد جنایت نے کوئی کمی پیدا نہ کی تو اس کی وہ قیمت لگائی جائے گی جو زخم سے خون جاری ہونے کے وقت کی ہوسکتی تھی۔ اس وقت زخمی پر جنایت کا اثر ہوتا ہے اور وہ خوف زدہ ہوتا ہے ،لہذا اس کیفیت میں اس کی قیمت لازماً کم ہوجائےگی اور اسی کمی کی نسبت سے مجرم سے دیت وصول کی جائے گی۔ کفارۂ قتل کا بیان "كفارة‘كفر سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی"پردہ ڈالنے" کے ہیں تو اس کایہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ گناہ پر پردہ ڈال دیتا ہےاور اسے ڈھانپ لیتا ہے۔کفارۂ قتل کے وجوب کی دلیل کتاب اللہ،سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع اُمت ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ کاارشادہے: " وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٩٢﴾ " " جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، تواس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا( بھی ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں،یہ(کفارہ) اللہ کی طرف سے بخشوانے کے لیے اور اللہ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا