کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 403
"آدمی پر مصیبت کے ایام میں ایسی کیفیت بھی آجاتی ہے کہ وہ بُری چیز کو اچھا سمجھنے لگتا ہے۔" علامہ اقبال کا شعر ہے: جو ناخوب تھا بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتاہے قوموں کا ضمیر لہذا ایسے لوگوں کو چاہیے کہ عقل سے کام لیں،دانش مندی کی روش اختیار کریں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کرتے ہوئے پوری ڈاڑھی رکھیں جسے اللہ تعالیٰ نے اس کی مردانگی کی علامت اور حسن وجمال کا مظہر بنایا ہے۔ سر کے زخم اور ہڈی توڑنے کے احکام "شجاج ‘شجة "کی جمع ہے جس کے لغوی معنی کٹنے اور پھٹنے کے ہیں اصطلاحی طور پر سریا چہرے کے ایسے زخم کو کہا جاتا ہے جس سے سرپھٹ جائے یا چہرے کی جلد کٹ جائے۔اگرسر اور چہرے کے سوا کسی اورجگہ زخم ہوتو اسے جُرح کہتے ہیں، شجة نہیں۔اہل عرب کے نزدیک شجة(سر اور چہرے کے زخم) کی دس قسمیں ہیں اور ہر قسم کا ایک خاص نام اور حکیم ہے۔تفصیل درج ذیل ہے: 1۔حارصہ:یعنی ایسا زخم جس سے جلد معمولی طور پر چھل جائے لیکن خون نہ نکلے۔ایسے زخم کو"قاشره" بھی کہتے ہیں۔ 2۔بازلہ:ایسا زخم جس سے معمولی سا خون نکل آئے اسے دامعہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ زخم آنکھ کے آنسو نکلنے سے مشابہت رکھتا ہے۔ 3۔باضعہ:وہ زخم جس سے جلد چھل جائے اور گوشت کٹ جائے۔ 4۔متلاحمہ:وہ زخم جو گوشت میں گہرائی تک چلاجائے۔ 5۔محاق:وہ زخم جو گوشت میں گہرائی تک چلا جائے حتیٰ کہ ہڈی کے اوپر بنی ہوئی جھلی تک پہنچ جائے۔ مذکورہ پانچ اقسام کے زخموں میں شرعی طور پر دیت کی خاص مقدار مقرر نہیں،لہذا اس میں"حکومہ" ہوگا جسے حاکم اپنے اجتہاد سے مقرر کرے گا۔"