کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 398
اسلامی درہم ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " دِيَةَ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ " "مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم ہیں۔" یہ قول اہل علم کی اکثریت کا ہے۔ (13)۔اہل کتاب ،مجوس اور بت پرستوں کی عورتوں کی دیت ان کے مردوں کی دیت سے نصف ہے جیسا کہ مسلمان عورتوں کی دیت مسلمان مردوں سے نصف ہے۔" ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" اہل علم کا اجماع ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔" عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی کتاب(خط) میں بھی درج ہے کہ"عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے۔" علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" یہ بات واضح ہے کہ عورت مرد سے ناقص ہے اور مرد عورت سے زیادہ نفع مند ہے کیونکہ دینی اور سیاسی مناصب ،سرحدوں کی حفاظت ،جہاد زمین کی آبادی اور وہ جملہ احکام جن کے ساتھ عالم انسانی کی مصلحتیں وابستہ ہیں،اسی طرح دین ودنیا کے دفاع کے جملہ امور جس قدر مرد سرانجام دے سکتا ہے اس قدر عورت نہیں کرسکتی،لہذا عورت کی دیت مرد کے مساوی نہیں ہوسکتی۔اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آزاد انسان کی دیت غلام یا کسی دوسری چیز کی قیمت کے قائم مقام ہے،لہذا شارع علیہ السلام کی طرف سے حکمت کا تقاضا ہوا کہ عورت کی قیمت مرد کی قیمت سے نصف مقرر کی جائے تاکہ دونوں میں فطری فرق برقرار رہے۔" (14)۔اگر دیت ایک تہائی سے کم واجب ہوتو مرد اور عورت کی دیت برابر ہوگی،چنانچہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "عَقْلُ الْمَرْأَةِ مِثْلُ عَقْلِ الرَّجُلِ حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ مِنْ دِيَتِهَا" "عورت اور مرد کی دیت برابر ہے جب وہ تہائی حصہ تک ہو۔" سیدنا سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" یہی سنت ہے۔" امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" اس مذکورہ مسئلے میں امام ابوحنیفہ ،شافعی ،اور علماء رحمۃ اللہ علیہم کی ایک جماعت کا اختلاف ہے،انھوں نے کہا ہے :مرد اور عورت کی قلیل اور کثیر دیت میں برابری نصف تک ہے۔تاہم سنت پر عمل کرنا زیادہ ضروری ہے ۔ایک تہائی سے کم اور اس سے زیادہ کا حکم اس لیے الگ الگ ہے کہ ایک تہائی سے کم قلیل