کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 396
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَدِيٍّ قُتِلَ ،فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا" "بنو عدی کا ایک آدمی قتل ہوگیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار(درہم) مقرر فرمائی۔" عمرو بن حزم کی کتاب(خط) میں ہے: " وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ " "سونا ادا کرنے والوں پر ایک ہزار دینار ہے۔" (9)۔اہل علم اس کے بارےمیں اختلاف کرتے ہیں کہ کیا یہ مذکورہ اشیاء(سونا،چاندی ،اونٹ،گائیں،بکریاں وغیرہ) سب اصل اشیاء ہیں کہ ان میں سے جو شے بھی ادا کردی جائے تو مقتول کے وارث پر لازم ہے کہ اسے قبول کرے،چنانچہ اہل علم کی ایک رائے یہی ہے کہ مذکورہ اشیاء میں سے کوئی ایک چیز مقرر مقدار کی صورت میں دے دی تو جائز ہے کیونکہ جو اس پر واجب تھا اس نے ادا کردیا ہے۔یہ قول اہل علم کی ایک جماعت کا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اصل دیت صرف اونٹ ہی ہیں دیگر انواع نہیں۔یہ جمہور علماء کا قول ہے۔دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ہے: " فِي النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ " "مومن جان کی دیت سو اونٹ ہیں۔" نیز ایک اور روایت میں فرمان نبوی ہے: "أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَإِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ" "خبردار!قتل شبہ عمد جو کوڑے یا لاٹھی کے ساتھ ہو،اس میں مقتول کی دیت سواونٹ ہے۔" سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:لوگو! اونٹ بہت مہنگے ہوچکے ہیں،لہذا سو اونٹ کی قیمت کے پیش نظر سونے کے مالک ایک ہزار دینار دیت دے گا،چاندی کا مالک بارہ ہزار درہم،گائیوں کا مالک دو سوگائیں،بکریوں کا مالک دو ہزار بکریاں اور کپڑے کا مالک دو سو جوڑے دیت میں ادا کرے گا۔" یاد رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے"شبہ عمد" میں دیت کے اونٹوں میں ایک مزید کڑی شرط لگائی ہے جو قتل خطا کی دیت میں نہیں(تفصیل آگے آرہی ہے) تو اس سے ثابت ہوا کہ اصل دیت اونٹ ہی ہیں۔تقریباً تمام اہل علم کا