کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 381
اجماع ثابت ہوا۔ اگر مقتول کا وارث بچہ ہے یا مجنون شخص اور انھیں نان و نفقہ کی ضرورت ہے تو صرف مجنون کے ولی کو چاہیے کہ اس کی پرورش کی خاطر مقتول کی دیت قبول کر لے کیونکہ کوئی علم نہیں کہ دیوانہ کب صحیح ہوا ور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صحیح نہ ہو۔ بچے کے بالغ ہونے یا نہ ہونے میں تردد نہیں ہوتا۔ 2۔ جن لوگوں کو قصاص لینے کا حق حاصل ہے وہ قصاص لینے پر متفق ہوں، یعنی وہ دورائے نہ رکھتے ہوں کیونکہ یہ ایسا حق ہے جو مشترک ہے اور اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی، لہٰذا اگر بعض ورثاء قصاص کی صورت میں اپنا حق وصول کر لیں گے تو دیگر ورثاء کے(دیت لینے یا معاف کرنے کے ) حق میں مداخلت کے مرتکب ہوں گے جس کا انہیں اختیار نہ تھا۔ قصاص کے مستحقین میں سے اگر کوئی غیر حاضر ہو یا نا بالغ ہو یا مجنون ہو تو انتظار کیا جائے گا کہ غیر حاضر آدمی حاضر ہو جائے ،بچہ بالغ ہو جائے اور مجنون صحت یاب ہو جائے۔اگر قصاص کے مستحقین میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کا وارث اس کا قائم مقام ہوگا۔ اگر قصاص کا حق رکھنے والوں میں سے کوئی ایک معاف کردے تو مجرم سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ استحقاق قصاص میں تمام نسبی اور سببی ورثاء شریک ہیں وہ مردہوں یا عورتیں، بڑے ہوں یا چھوٹے ۔بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ معاف کرنے کا حق صرف عصبہ کو ہے۔امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت اسی طرح کی ملتی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی رائے کو پسند کیا ہے۔ 3۔ قصاص کی صورت میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ جو قصور وار نہیں اس پر زیادتی نہ ہونے پائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَاناً فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنصُوراً" "اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مارڈالا جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے۔چنانچہ وہ قتل(قصاص لینے)میں زیادتی نہ کرے ،بے شک وہ مدد کیا گیا ہے۔"  جب قصاص میں زیادتی ہوگی تو(آیت کے مطابق)یہ"اسراف"ہے جس سے آیت مبارکہ منع کر رہی ہے۔اگر کسی حاملہ عورت سے قصاص لینا واجب ہو یا قصاص واجب ہونے کے بعد وہ حاملہ ہو جائے تو جب تک وضع حمل نہ ہو گا اس عورت کو قتل نہ کیا جائے گا کیونکہ اس کو قتل کرنے سے اس کے پیٹ کا بچہ بھی قتل ہوگا، حالانکہ وہ بے قصور ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: