کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 374
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’آیت کریمہ کا یہ حکم اس مسلمان شخص کے لیے ہے جو کافروں میں رہنے پر مجبور اور معذور ہو۔ مثلاً:قیدی ہویا وہ مسلمان جو کفار کی صفوں سے نہیں نکل سکتا اور ہجرت بھی نہیں کر سکتا، البتہ ایسا مسلمان شخص جو اپنی مرضی سے کفار کی صفوں میں کھڑا ہے تو اس کی کوئی ضمان نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس نے خود اپنے آپ کو بغیر کسی عذر کے معرض ہلاکت میں رکھا ہے۔‘‘ قاتل کے عاقلہ، یعنی برادری پر دیت واجب ہونے کی دلیل سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی ایک عورت کے بچے کے بارے میں فیصلہ دیا جسے اس کی ماں کے پیٹ میں مار دیا گیا کہ اس کے بدلے غلام یا لونڈی ادا کی جائے، پھر یوں ہوا کہ جس عورت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا تھا وہ عورت بھی مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مرنے والی عورت کی میراث اس کے بیٹوں اور خاوند کو ملے گی۔ باقی رہی دیت تو وہ اس(قاتلہ )کے عصبہ ادا کریں گے۔" اس حدیث شریف سے واضح ہوا کہ قتل خطا میں دیت عاقلہ پر ہے، اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ جس شخص سے غلطی سر زد ہوئی ہے اس شخص پر دیت لازم کرنے میں عظیم نقصان ہے کیونکہ اس کا ارادہ قتل کرنے کا نہ تھا۔ محض خطا سے قتل کا صدورہوا ہے اور خطائیں تو انسان سے اکثر وقوع پذیر ہوتی ہی رہتی ہیں۔اس کی غلطی کا بوجھ اس اکیلے پر ڈال دینا اس پر مالی زیادتی ہے۔ اسی طرح مقتول کی جان بھی تو محترم تھی ،لہٰذا اس کا بدل و معاوضہ بھی ضروری ہے۔ اگر اس کا خون رائیگاں قراردیا جائے تو اس کے ورثاء کا نقصان ہے بالخصوص اس کے اہل و عیال کا، لہٰذا شارع نے دیت ان لوگوں پر واجب قراردی ہے جو قاتل کے سر پرست اور مدد گار ہیں۔ وہ مل کر ادائیگی دیت میں اس کی مدد کریں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی فقیر کو نان و نفقہ دینا یا قیدی ہوتو اس کے عصبہ رشتے داروں کا فرض ہے کہ اسے چھڑانے کی کوشش کریں۔ قاتل مرجائے گا تو وارث بھی عاقلہ ہی ہوں گے، لہٰذا اب قتل خطا میں بوجھ بھی وہی برداشت کریں۔ مثل مشہور ہے"جو فائدہ حاصل کرے وہ تاوان بھی بھرے۔" واللہ اعلم۔ قاتل پر کفارے کا بوجھ درج ذیل امور کی وجہ سے ہے: 1۔ مرنے والی جان قابل احترام تھی۔ 2۔ قتل میں قاتل کی کوتاہی ضرور شامل ہے، وہ اس سے مبرانہیں۔