کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 37
سودخور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اور ناسپاسی کرنے والا ہوتا ہے کیونکہ وہ مجبوراورنادار لوگوں پر رحم وترس نہیں کرتا، غرباء وفقراء کی مدد نہیں کرتا اور تنگ دست کو رعایت ومہلت نہیں دیتا یا پھر(كَفَّارٍ) سے مراد دین اسلام سے خارج کرنے والا"کفر" بھی ہوسکتا ہے اور یہ تب ہے جب وہ سود کو جائز اور حلال سمجھے،نیز اسے (أَثِيمٍ) یعنی نہایت گناہ گار قراردیا کیونکہ وہ مادی اور اخلاقی لحاظ سے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سود خور کےخلاف اعلان جنگ کیا ہے کیونکہ وہ سود نہ چھوڑنے کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول کا دشمن ہے۔علاوہ ازیں اسے"ظالم" بھی قراردیاگیا۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿٢٧٨﴾ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ" "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایماندار ہو ۔اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ، ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔" سود کے بارے میں قرآن مجید کی زجروتوبیخ کے علاوہ احادیث رسول میں بھی بہت سخت الفاظ واردہوئے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کو ہلاک کرنے والے کبیرہ گناہوں میں شامل کیا ہے۔سود کھانے اور کھلانے والوں،اس کے گواہوں اور لکھنے والوں پر لعنت کی اور فرمایا:" سود کا ایک درہم تینتیس یا چھتیس بارزنا کرنے سے بھی بُرا ہے۔"نیز فرمایا:"سود کے بہتردرجے ہیں،ان میں ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرے۔" شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" سود کی حرمت جوئے کی حرمت سے بڑھ کر ہے کیونکہ سود خورمحتاج اور ضرورت مند سے یقینی طور پر مال وصول کرتا ہے جبکہ جوئے باز کو مال کبھی ملتا ہے اور کبھی نہیں ملتا۔سود یقینی ظلم ہے جس میں مالدار نادار پر تسلط جمالیتا ہے بخلاف جوئے باز کے اس میں کبھی غریب،امیر شخص سے مال حاصل کرتا ہے،کبھی دونوں جوئے باز غریبی ومالداری میں برابر ہوتے ہیں۔اگرچہ جوئے میں حاصل ہونے والا مال باطل اور